RSS

Sarmachar News: Surrender of BRA Terrorists

On 6 March 2014 nine terrorist of BRA surrendered in Dera Bugti in the presence of notables of the area and Commandant Bambore Rifles. They took advantage of the amnesty scheme of the government and laid down their weapons.

 

BRa BRA_1 BRA_2 BRA_3

 

The Complete Picture of Balochistan

By Aamir Khakwani

 

Unite all parts of Balochistan Issue

 
 

Balochistan Ki Bujharet

By Hasan Nisar

Balochistan Ki Bujarit

 

 

 
 

Mama Qadeer Long March

By Aslam Khan

budha.goraya@yahoo.com

پاکستان مخالف بلوچ باغیوں کا سیاسی چہرہ تخلیق کیا جا رہا ہے ۔آزاد بلوچستان کے لیے جدوجہد کرنے والے باغیوں کو ماما قدیر نہیں، فرزانہ بلوچ کے روپ میں نئی سیاسی شناخت دی جا رہی ہے۔ ماما قدیر کا مارچ بہت سے اسرار لیے ہوئے ہے۔ انسانی فطرت کو متاثر کرنے والے تمام اجزاء اس لانگ مارچ میں موجود ہیں۔ ایک بوڑھا، 10سال کے معصوم بچے اور نوجوان لڑکی کے ساتھ 2 ہزار کلو میٹر پیدل کوئٹہ اور کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرتا ہے۔ ایسا پاکستانی مہاتما جو گاندھی جی کا 390 کلو میٹر تاریخی لانگ مارچ کا ریکارڈ توڑ دیتا ہے، وہ اپنے پیاروں کی تلاش میں اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں پر دستک دینے آیا ہے‘ اپنے پیاروں کی تلاش میں اس بڑھاپے میں در، در پر دستک دے رہا ہے لیکن اسلام آباد کے بے رحم ایوانوں میں کوئی دل اس کی مظلومیت پر پسیجتا ہی نہیں، کوئی آنکھ نم ہوتی ہی نہیں۔

مظلومیت کی یہ کہانی وفاقی دارالحکومت میں بار بار دہرائی جا ری ہے لیکن نام نہاد سول سوسائٹی کے عالی دماغ بلوچستان میں صدیوں سے آباد محنت کش پنجابیوں کے قتل کو بھلائے ہوئے ہیں۔ ہم تو بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور میڈیکل کالج کے پرنسپل کا نام بھی بھول چکے ہیں جنہوں نے بلوچستان میں علم کا نور پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ انھیں صرف پنجابی ہونے کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔

اس پاکستان کی بھی کیا عجب کہانی ہے جس کے وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد میں زخموں سے تار تار اور لہولہان جسم پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔کیا محترمہ فرزانہ بلوچ سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ پنجابی محنت کشوں کا جرم کیا تھا جنھیں شناخت کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس وحشیانہ واردات کی ذمے داری بھی قبول کی گئی۔62 سالہ ماما قدیر سے کوئی سوال کناں نہیں تھا کہ پیارے صرف بلوچستان سے غائب نہیں ہوئے یہ تو آج پنجاب کے گھر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ رہی ہماری روشن خیال، عالی وقار سول سوسائٹی تو یہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے تو تلملا رہی ہے لیکن ’خیبر پی کے ‘ پنجاب اور سندھ سے ہمیشہ کے لیے غائب کر دیے جانیو الوں اور ان کی تلاش میں تڑپنے والوں کے لیے کلمہ خیر کہنے کو تیار نہیں۔

گم شدہ اور غائب کر دیے جانے والوں کے لیے سب سے پہلے آمنہ مسعود جنجوعہ تن تنہا میدان میں نکلی تھیں لیکن آج ان کا کہیں کوئی ذکر تک نہیں‘ یہ وہی آمنہ مسعود جنجوعہ ہیں جنہوں نے ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سردی میں، ظالم موسم کی شدتوں کی پروا کیے بغیر ڈی گراؤنڈ پر دھرنا دیے رکھا تھا۔

بظاہر سادہ لوح دکھائی دینے والے ماما قدیر بلوچ سیٹلائٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت دبئی اور جنیوا میں فون کرتے اور وہاں سے آتے رہتے ہیں۔ وہ فرزانہ بلوچ کے ہمراہ پائیدار ترقی کے لیے فلاحی ادارے (SDPI) میں اپنے لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور خطرات کے بارے میں ’داستان اَلم‘ سنا رہے تھے جس کے مطابق بظاہر بے سروسامانی کے عالم میں ہونے والے اس لانگ مارچ کی فلم بندی کے لیے جدید ترین آلات اور ماہرین ہمہ وقت حاضر و موجود رہے ’انھوں نے ریاستی‘  خاص طور پر خفیہ اداروں کو مسلسل ہدف تنقید بنائے رکھا لیکن ایک بار بھی کھانے پینے کی اشیائے خور و نوش کی کمیابی یا بھوک کا ذکر تک نہ کیا جو کہ ایسے لانگ مارچ کرنے والوں کا مقدر ہوا کرتی تھی۔

ماما قدیر بلوچ نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف ان سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر آصف کرمانی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ دعوت دینے آئے تھے لیکن میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف بااختیار ہیں تو آئی ایس آئی کے سربراہ کو میرے سامنے بٹھائیں۔ اب وہ دوبارہ ناشتے پر بلا رہے ہیں لیکن جانے کا کیا فائدہ وزیر اعظم تو بے اختیار اور بے بس ہیں۔ ماما قدیر کی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ در پیش معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھانے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ وہ گم شدہ بلوچوں کی تعداد 19 ہزار بتاتے ہیں جب کہ بلوچستان حکومت کے اعداد و شمار کہیں کم ہیں ۔وہ عالمی برداری سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔ نیٹو فوج اور یورپی یونین کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی راہ دکھا رہے ہیں۔

نیشنل پریس کلب کے احاطے میں اپنے ساتھیوں کے رویے پر معذرت کے بجائے ماما قدیر اصرار کر رہے تھے کہ انھیں روکا گیا ‘ایک گھنٹہ باہر انتظار کرایا گیا‘ وہ حقائق کے برعکس کہانی سنائے جا رہے تھے ۔اسلام آباد نیشنل پریس کلب گزشتہ دہائی سے عوامی جدوجہد کے منظر نامے پر روشنی کا مینار بن کر ابھرا ہے۔ خاص طور پر پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف وکلاء تحریک کے دوران پریس کلب کو مرکز ثقل کی حیثیت حاصل رہی تھی جو سول سوسائٹی اور سیا سی کارکنوں کے لیے اس شہر جور و جفا میں آخری پناہ گاہ بن چکا تھا۔ آج ماما قدیر اسی نیشنل پریس کلب کو ناروا الزامات لگا کر داغ دار کر رہے تھے۔

اس موقع پر یہ کالم نگار بذات خود وہاں موجود تھا، بصد احترام ماما قدیر سے عرض کی کہ اخبار نویس تو آپ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھے۔ آپ سے بد سلوکی کی کسے مجال تھی، ہوا کچھ اس طرح کہ ماماقدیر اور ان کے وفد کے ہمراہ دو اڑھائی سو پر جوش کارکنوں نے پریس کلب کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تو دروازے بند کر کے انھیں روکا گیا کہ وزارت داخلہ کے حفاظتی گارڈز اور واک تھرو گیٹ واپس لینے کے بعد کلب میں دہشت گردی کا خطرہ پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہے۔ ماما قدیر اور ان کے ساتھیوں کو بصد احترام بتایا گیا کہ ان کے تحفظ کے لیے ہجوم کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس پر سول سوسائٹی کے فن کار فوری میدان میں آ گئے، اور نیشنل پریس کلب اور اس کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ،فیس بک اور ٹیوٹر پر محاذ گرم کر دیا گیا۔

اس کالم نگار کی مداخلت سول سوسائٹی کے خواتین و حضرات کو بڑی ناگوار گزری لیکن پرانی شناسائی کی وجہ سے اُبھرنے والی دبی دبی آوازیں لمحوں میں دم توڑ گئیں لیکن اسلام آباد کے اخبار نویسوں کے رہنما بلال ڈار نے کمال کر دیا۔ انھوں نے دست بستہ ماما قدیر کی خدمت میں عرض کی ہے کہ اب تک 30 سے زائد اخبار نویس شہید ہو چکے ہیں، آپ مزاحمت کاروں سے ہماری جان بخشی کی سفارش کریں‘ اس پر ماما قدیر تو نہیں بولے لیکن فرزانہ صاحبہ نے بلوچ باغی گوریلوں کی حمایت کی اور کہا کہ اخبار نویسوں کو مزاحمت کاروں کے بجائے خفیہ اداروں سے خطرہ ہے اور یہ کہ مزاحمت کاروں نے کبھی اخبار نویسوں کو نشانہ نہیں بنایا‘ اس صورت حال میں آپ ہی بتائیں کہ ماما قدیر کے لانگ مارچ کی کہانی میں اسرار ہیں کہ نہیں۔ میں تو صرف یہ کہوں گا کہ کیا اس ملک میں کوئی پاکستان کا مقدمہ لڑنے والا بھی ہے کہ نہیں؟ وفاق، ریاست اور اس کے ادارے نشانے پر ہیں اور ذمے دار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

Express Pakistan

 

US opposes independent Balochistan

White House Spokeperson

WASHINGTON: The United States has made it clear that it does not support the idea of an independent Balochistan and respects Pakistan’s territorial integrity.

The question of the alleged US involvement was raised at the State Department briefing on Tuesday afternoon where spokesperson Jen Psaki said she had seen media reports suggesting that “we had been engaged with Balochistan” and promised to release an official statement on the issue.

On Wednesday, the State Department issued a statement, making it clear that “the United States respects the territorial integrity of Pakistan. It is not the policy of the administration to support independence for Balochistan.”

The question raised at the briefing also referred to a recent statement by a Republican Congressman Louie Gohmert, suggesting that the United States should help Balochistan become a separate state.

“We are aware of Representative Gohmert’s comments. Members of Congress express a wide range of views. Such comments do not in any way imply US government endorsement,” said the State Department while distancing itself from Mr Gohmert’s position on the issue.

In a recent interview, Mr Gohmert suggested that to resolve the Afghanistan crisis, it’s better to have a separate Balochistan carved out of Pakistan.

Mr Gohmert’s statement followed President Barack Obama’s State of the Union address last month, emphasising the need for US disengagement from Afghanistan.

The Republican Congressman interpreted the speech as an admission of defeat in Afghanistan and proposed a two-point formula for turning this possible defeat into victory: supply more arms to the Northern Alliance and a new state within the borders of Pakistan.

Dawn

 
 

بلوچ نوجوان کیا کرے؟

BalochYoung(3) 
میں یہ مضمون “بلوچ نوجوان کیا کرے” اپنے بھائی صلاح الدین کھوسو کے نام کرتا ہوں۔ کھوسو میرا یار ہے، لڑائی مارکٹائی رہتی ہے ہماری مگر ہم نے اپنا تعلق اس سے اوپر رکھ چھوڑا، ہمیشہ کےلیے۔ اس نے اور اسکے گھر والوں نے ریاست کا احمقانہ جبر برداشت کیا ہے اور اسی پراسس میں اسکے والدین اگلے جہان سدھار گئے، مگر دلیر اور بڑے دل کا آدمی ،کھوسو، زندگی سے لڑتا لڑتا آگے بڑھ رہا ہے اور یہی، میرے نزدیک  اسکی سب سے بڑی دلیری ہے۔ بس کبھی کبھی “مرچیلا” ہو جاتا ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس کاوش کا انتساب اسی سے ہی بنتا تھا۔
 
تیرے لیے میرے یار، کھوسو، تیرے لیے۔
 
کہنا یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست نے شدید حماقتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاستی حماقتوں کا سلسلہ ابھی کچھ کم پڑا ہے، جانتاہوں کہ بلوچ دوست اس سے اتفاق نہ کریں گے، مگر یارو، جو ہے، وہ ہے!
 
کہنا یہ بھی ہے کہ بلوچ قوم نے، بالخصوص نوجوانوں نے، بھی کم از کم 2010 کے بعد سے ان ریاستی حماقتوں کا جواب ، ایسا لگتا ہے کہ، جوابی حماقتوں سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے۔بلوچ قوم کی بات تو کرنا شاید درست نہ ہو کہ یہ کہنا بھی مکمل غلط ہوگا کہ سارے کے سارے بلوچ النسل لوگ پاکستان مخالف ہیں، مگر یہ بہرحال درست ہے کہ بلوچ قوم میں، بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں کی نسبت، مرکز گریزیت کچھ زیادہ ہے۔
 
بلوچستان کی صورتحال کو پاکستان، بالخصوص پنجاب میں بیٹھے لوگ بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، میں پالیسی میکرز کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک عام پائے جانے والے تاثر کا ذکر کر رہا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بلوچ نوجوان بھی اپنی صورتحال کو بھی بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، آزادی، انقلاب، جدوجہد اور بلوچستان میں جاری تشدد کے حوالے سے۔پنجاب کا عمومی سنٹیمینٹ بھی غلط ہے، اور بلوچ نوجوان کا جذباتی رجحان بھی درست نہیں۔ پاکستانی ریاست چونکہ ایک قومی نیریٹو بنانے میں کامیاب ابھی تک نہیں ہوئی تو اپنے آپ کو لبرل کہلوانے کے شوقین حضرات بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور اسکے ساتھ ساتھ، “سواد” اس چیز کا بھی ہے اپنے کلاسیکی دیوبندی یار بھی اسی خیال کے مالک ملتے ہیں۔ عجب کہ  ان دونوں طبقات کو اگر جوڑتی بھی ہے تو کیا چیز جوڑتی ہے، واہ!
 
بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔
 
دونوں  کے حالات میں کوئی مماثلت نہیں۔ آبادی کا تناسب، زمینی فاصلہ، شورش/بغاوت کا پھیلاؤ، مکتی باہنی کا  1971 کی جنگ سے کہیں پہلے جنگ کے لیے تیار ہونا  (جی، انکے کلکتہ میں مہاجر/ٹریننگ کیمپس تھے)، بھارت کی کھلم کھلا سپورٹ اور بعد میں جارحیت، بین الاقوامی حالات، شورش کا ایک عوامی رجحان،  پاکستانی فوجی آپریشن کی بے سمتی اور اربن وارفئیر کو طاقت سے حل کرنے کی کوشش جبکہ ایسے حالات میں طاقت و سیاست دونوں چلنے چاہیئں تھے، بھٹو اور یحییٰ کا خودغرضانہ اور احمقانہ کردار کہ بھٹو نے ٹانگین توڑنے کی بات کی، اور یحییٰ صاحب تو شاید اس وقت بھی اپنی وہسکی پی رہے تھے، اور مغربی پاکستانی عوام کی ایک ذہنی نا پختگی کہ جسکو الطاف حسن قریشی صاحب نے “محبت کا زمزمہ” اور سید اطہر شاہ صاحب مرحوم صاحب نے “ادھر ہم ادھر تم” کی صحافتی طور پر بددیانتانہ سرخیوں  سے مزید بڑھایا۔ قریشی صاحب زندہ ہیں، اور اطہر شاہ صاحب بعد میں اس سرخی پر قوم سےشرمندہ بھی ہوئے، مگر بہت دیر بعد۔
 
ابھی اوپر والے حالات کہ جن کی تخلیاتی بنیاد پر اپنے لبرل اور دیوبندی یار بلوچستان میں مشرقی پاکستان تلاش کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایک کرکے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں کہ بلوچستان کیوں مشرقی پاکستان نہیں۔
 
بلوچستان میں ایسے حالات اس لیول کے نہیں ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ متصل صوبہ ہے اور بہت معذرت کہ بلوچستان میں خود بلوچ النسل لوگ ایک سادہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ بلوچ اور براہوی بہت سے نسلی اور لسانی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر انکی سیاست میں فرق ہے۔ بلوچ النسل قریبا 38-40 فیصد ہیں جبکہ براہوی النسل قریبا18-20 فیصدی ہیں۔ پشتون بلوچستان کا قریبا 30-32 فیصدی بناتے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ پنجابی، سندھی، سیرائیکی النسل ہیں۔ 2012 میں برطانوی ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق، 63 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے “آزادی” کی مخالفت کی تھی اور پشتون علاقوں میں آزادی مخالف جذبات تقریبا 88 فیصد تھے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ 73 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے بلوچستان کے وسائل اور مسائل پر صوبائی لیڈران اور حکومت کے اختیارات مضبوط ہونے کی حمایت کی اور 53 فیصد پشتون بھی اس معاملہ پر اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ تھے۔ اور اگر آپ مجھ سے بحیثیت ایک پنجابی پوچھیں تو، جناب، شاید خود بلوچوں اور پشتونوں سے بھی زیادہ پنجابی بلوچستان کے عوام کا اپنے صوبائی معاملات پر اپنے اختیار کے ہونے کی مکمل حمایت کریں گے۔
 
 بلوچستان کی تمام آبادی، پاکستانی آبادی کا دس فیصد سے بھی کم ہے، قریبا ایک کروڑ کے لگ بھگ، جبکہ پاکستان کی آبادی اس وقت 19 کروڑ کے قریب ہے، اور اس ایک کروڑ میں بلوچ النسل لوگ 40 لاکھ کے قریب ہیں، اور اس 40 لاکھ میں سے کوئی 30 لاکھ آزادی کو رد کرتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں، جیسا کہ مشرقی پاکستان تھا اور درمیان میں ہزار میل سے زیادہ پر پھیلا ہوا “پڑوسی ملک” بھارت بھی موجود نہیں۔ بلوچستان کے مسلح لوگ، کہ جنہیں میں پہلے سرمچار سمجھتا تھا، اور اب 2010 کے بعد سےہچمچار کہتا ہوں کہ انکی تحریک میں اب جدوجہد سے زیادہ بے سمتا تشدد آ چکا ہے جسکا شکار پنجابی تو تھے ہی، اب خود بلوچ، پشتون اور براہوی بھی ہور ہے ہیں۔ بلوچ ہچمچاروں کو افغانستان سے سپورٹ ملتی ہے، اور یہ بات درست ہے، وگرنہ براہمداغ محترم افغانستان سے افغانی پاسپورٹ پر دہلی، اور پھر جینوا نہ جاتے، اور بالاچ مری بھی خاص حالات میں نہ مارے جاتے، اور افغانستان، میرے یارو، بھارت نہیں کہ جو پاکستان پر چڑھ دوڑے، تین مرتبہ تو کوشش کی جون 2012 سے، مگر پٹائی ہی کروا کے واپس بھاگے۔ اور اگر افغانستان سے سپورٹ نہیں ملتی تو میں پھر اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ سارا اسلحہ، کمیونیکیشن کے آلات، پیسہ، نقشات وہ دیگر اشیاء بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص طور پر متعین کردہ “بلوچ فرشتے” ہی ان ہچمچاروں کے گھروں کی چھتوں پر رات کو آسمانوں سے آکر رکھ جاتے ہیں۔
 
موجودہ جدید ریاستوں کی ساخت اب ایسی ہو چکی کہ شورش پیدا کرکے انکو چاکلیٹ کیک کی طرح سے کاٹنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور پاکستان جیسی بھی ہے، ایک منظم ریاست ہے اور اسکے معاملات میں، جو اسکو توڑنے کے درپے ہوں، خطے کی کوئی بھی ریاست اب کھلم کھلا حمایت نہ کرے گی۔ بین الاقوامی حالات، کہ جن میں ہربیار مری، فیض بلوچ، براہمداغ و دیگران، جتنا مرضی ہے شور مچا لیں، ایک بین الاقوامی فوج کی پیراشوٹنگ کا کوئی امکان نہیں اور خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب شورش کا رجحان عوامی نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ بلوچوں کے باہمی اختلافات ،کہ جس میں ابھی تک مرکز گریز اور مرکز کے حمایت یافتہ سرداروں کی لڑائیاں ہی ختم ہونے کو نہیں آ رہیں، ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ دوستو، یہ اختلافات تو پچھلے پانچ سو سال کی ڈاکیومینٹڈ تاریخ میں تو حل نہیں ہوئے اور شاید آئندہ کے پانچ سو سال میں بھی حل نہ ہوسکیں گے۔
 
1971 کے بالکل برعکس، پاکستان، اور خصوصا پنجاب میں، عوام کی اکثریتی رائے مرکز کی پالیسیوں کی ناقد ہے اور خود لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں کئی مرتبہ ایسی گفتگو ہوئی کہ پنجابی طلباء نے سر جھکا کر اور آبدیدہ آنکھوں سے بلوچ مہمان طلباء کی گفتگو سنی اور ان سے اتفاق بھی کیا۔ میڈیا، بھلے بندر کے ہاتھ استرے کے مصداق اپنی پہنچ کا درست فائدہ نہ اٹھا رہا ہو، مگر ساتھ ساتھ ہی میں یہ نہ تو “محبت کا زمزمہ” بہا رہا ہے اور نہ ہی “ادھر ہم، اُدھر تم” کے نعرے لگا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں کے حق میں سب سے بلند آواز دو پنجابی کشمیری صحافی، حامد میر اور نصرت جاوید نے ہی بلند کی ہے، اور کیے رکھ رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی 1971 میں نہ تھا۔ ایک شعوری ادراک اور احساس ہے پاکستانی معاشرے میں بلوچستان کے حالات کے دگرگوں ہونے پر، مگر عوام کی اکثریت، بالکل بلوچ قوم کی اکثریت کی طرح ریاستی امور میں دخل نہیں رکھتی مگر یہ بات کہنا بھی مکمل درست نہ ہوگی کہ بلوچستان کے حوالے سے پاکستانی، یا پنجابی قوم “ستُوپی کر سو رہی ہے،” ایسا کچھ نہیں، وگرنہ یہ مضمون بھی نہ لکھا جا رہا ہوتا۔
 
تحقیق کہ سچ کہا جائے کہ بلوچستان میں جاری معاشرتی تشدد کا جواب ریاست نے جوابی تشدد سے دیا۔ سچ کہا جائے کہ کلاسیکی انداز کا کوئی فوجی آپریشن بلوچستان میں نہیں ہو رہا۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح دتھے ، چاہے ہچمچاری ہوں، یا چاہے ریاستی ہوں، ان دونوں کے ہاتھوں بے گناہوں کی بھی ایک کثیر تعداد ماری گئی۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح تحریک میں واحد نظریاتی تحریک واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کی ہے جبکہ دوسرے سارے گروہوں میں یا تو جرائم پیشہ افراد سرایت کر چکے، کچھ بلوچ گروہ اپنی طاقت کےلیے مذہبی شدت پسندوں سے بھی ہاتھ ملا چکے، اور باقی، میرے یارو، سردرار زادوں کے “ٹائم پاس” کرنے کا شغل بن چکے ہیں۔ بگٹی و مری قبائل کے  چندسردار زادے جو کہ شاید اب پاکستان کبھی واپس نہ آئیں، باہر اپنی پر تعش زندگیوں میں سے روز چند لمحات نکال کر بلوچ نوجوانوں کو ایک اندھی گلی میں دھکیلنے میں مصروف ہیں اور  میرے بلوچ یار کوئی سوال پوچھے بغیر انکے پیچھے چلنے کو تیار۔ ہنسنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے کہ بگٹی سردار زادہ ایک “ریپبلیکن پارٹی” بنا کر چلا رہا ہے، جب کہ اصلیت میں موصوف کا ریپبلک نظریات سے کروڑوں نوری سالوں کا بھی تعلق نہ بنتا ہو۔  ایک دومری سردار زادے لندن کے معتدل موسم میں بلوچستان میں آگ بھڑکانے کے شغل میں مصروف ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ سوال بھی پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جناب آپ کس سمت سے انقلابی نظر آتے ہیں۔
 
میرا وجدان نہیں، سیاسی تحقیق ہے کہ بلوچستان کی آزادی کا خواب ایک جھوٹا خواب ہے۔ ایک آوازاری کا احساس جو کہ مرکز کے حوالے سے ہے وہ بھی بلاوجہ نہیں، مگر اسکی Manifestation بھی صحتمندانہ نہیں۔ بلوچ نوجوان کو ریاست نے آگے ہی کم مواقع فراہم کیے ہیں اور موجودہ حالات میں، میرے نزدیک وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان، میرے یارو، کوئی چاکلیٹ کیک نہیں کہ جسکو افغانستان میں بیٹھے چند ایک عناصر کاٹ پھینکیں، یہ ٹوٹی پھوٹی جیسی بھی ہے ایک منظم ریاست ہے اور اس نے جب بھی ایک پولیٹیکل وِل کے ساتھ منظم طریقے سے عمل کیا، نتائج سامنے آئے۔ ڈاکٹرمالک بلوچ کی صورت میں بلوچستان کے پاس ایک بہت اعلیٰ سیاسی موقع ہے اور پاکستان کے سیاسی حالات بھی موافق ہیں کہ فیڈریشن سے سیاسی و آئینی طریقہ سے اپنی بات منوائی جا سکے۔ مجھ سے سست اور کاہل لوگ بھی بلوچ قوم کی سیاسی جدوجہد کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فیڈریشن میں بلوچوں کا حق “بیک ڈیٹ” کے ساتھ انکو شکریہ کے ساتھ لوٹایا جائے۔
پاکستان لڑکھڑاتا جمہوری سفر پر گامزن ہو چکا اور فوج بھی بہت سے حوالوں سے اس پراسس کے ساتھ ایک عقلی رشتہ جوڑنے کی کوشش میں ہے۔ بہت سے مسائل ابھی بھی باقی ہیں اور شاید اس سے دس گنا مزیدآئیں بھی، مگر میرے بلوچ دوستو، تشدد کی زبان سے کہ جہاں پیر غائب میں لائن میں کھڑا کرکے نو پنجابی مزدوروں کو گولی سے اڑا دو گے، تو آزادی نہیں، مزید خرابی تمھارے اور ہمارے حصے میں آئے گی اور یہ دونوں کا نقصان ہو گا۔ بلوچ نوجوان کے لیے، میرے نزدیک پچھلے 67 سالوں میں ایسا موقع پہلے نہ آیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو فیڈرلی مین-سٹریم کرے اور اپنے حقوق کے لیے، بلکہ نہ صرف اپنے حقوق کےلیے بلکہ پاکستان کے تمام زیردست طبقات کے حقوق کے لیے ایک سیاسی جدوجہد کی شاندار تاریخ رقم کرے۔ ماما قدیر کے پاس افغانستان سے بھیجے گئے کوئی راکٹ لانچر نہیں، مگر ایک بوڑھے پر امن آدمی نے پاکستان میں ایک ایسا موضوع زندہ رکھا ہوا ہے کہ جو بلوچ جوان تشدد کے بل بوتے پر زندہ نہ رکھ سکے۔ تشدد سب کو کھا جاتا ہے، سب کو۔ جنوبی ایشائی سیاسی وزڈم ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ جہاں معاشرتی والَو سیاست پر دباؤ ڈال کر تشدد کو عدم تشدد میں جذب کر لیں، پاکستان بھی مختلف نہیں۔
میں کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتا مگر بلوچ نوجوان اب یہ سوچے کہ کتنے سال، کتنے جوان اور کتنے خواب مزید تشدد کی بھینٹ چڑھانے ہیں جبکہ تشدد اب اسے بھی کھا رہا ہے۔ دوسرا رستہ شاید اسکی انا، ماضی کے زخموں، ریاستی حماقتوں اور ایک عام سی پاکستانی لاپرواہی کی وجہ سے مشکل نظر آتا ہو، مگر میرے بلوچ بھائیو، اصل رستہ بھی وہی ہے۔ آگے بڑھو صرف ایک قدم، آپکو دس قدم چل کر آپکی طرف آنے والے پاکستان میں اب بہت ملیں گے، بہت۔ اتنے کہ گن نہ پاؤ گے۔ ماضی میں زندہ نہ رہو کہ ماضی تمھاری طرح میرا بھی شاید زخمی ہی ہو، مگر کیا منادی کرنا، ماسوائے اسکے کہ کسی کا کہا ہوا مان لیا کہ زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے اور ماضی پیچھے کی طرف کھینچتا ہے، “فیصلہ کرلو مبشر کہ آگے بڑھنا ہے یا ماضی میں ہی گڑے رہنا ہے!” مجھے یہ الفاظ میرے گاؤں، ملکوال کے میرے ماضی کے ایک دوست طارق نے لاہور میں 1989 میں کہے تھے۔ آج میں دل سے اسکا مشکور ہوں کہ میں آگے بڑھ آیا، اور ماضی کو وہیں رہنے دیا، جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
 
بلوچ یارو، ایک بار، صرف ایک بار ایسا کر کے تو دیکھو۔ زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کوشش تو کرو یارو۔ زندگی صلہ دے گی، کھلے دل سے۔ میرا وعدہ ہے۔ تشدد کی آگ سب کو کھا جاتی ہے، اور کھا رہی ہے، اور یہ میرا خدشہ ہے۔
 
یہ مضمون میری آراء پر مبنی ہے۔ آپکا اتفاق یا اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ کوشش کیجیے کہ اگر اختلافی نوٹ لکھنا ہو تو اس میں آپکی تہذیب جھلکے۔ آگے آپکی مرضی ہے۔
 
 

Interview with CM Balochistan: Malik says he has power

Dr. Abdul Malik Baloch meeting Sardar Akhtar Jan Mengal in the presence of #Pakistan national flag

Balochistan Chief Minister Dr Abdul Malik has refuted the perception that he is a chief executive only in the name and that the actual powers are in the hands of the provincial civil bureaucracy, headed by the chief secretary.

“It is absolutely incorrect to suggest that the chief secretary is the decision-making authority in the province and I am a powerless chief minister,” CM Malik said in an annoyed tone.

“I have all powers and authority prescribed for the provincial chief executive in the Constitution and the chief secretary is discharging his duties in accordance with the rules and procedure,” Malik said in an exclusive interview with The Express Tribune on Tuesday in Islamabad.

Recently, Senator Mir Hasil Bizenjo, acting president of the Balochistan’s ruling National Party (NP), had told the media that the provincial cabinet was a toothless body without any authority.

“We have been given the right to rule the province but we are denied decisions-making powers,” Bizenjo had said.

Dr Malik – who had also served as the president of the ruling NP till his election as the provincial chief minister in June – said that his party’s leader had been quoted by the media out of context.

CM Balochistan himself supervising distribution of items in Awaran

CM Balochistan supervising distribution of items in Awaran

An official in Quetta said the provincial chief secretary – who has been sent from Punjab – was exercising all the administrative powers and there was little role of the chief minister and his cabinet members in decision-making.

Malik defended the chief secretary against the allegations and said the chief secretary and the inspector-general of police, who was also from Punjab, were serving Balochistan with exemplary commitment and remarkable integrity.

Councilors resign

The chief minister admitted that ‘some’ of the newly elected councilors of local bodies from Makran division had resigned their offices after they received life threats by Baloch militants.

“No doubt the newly elected councilors are still being abducted in Makran division by militants,” the CM said.

He claimed that 10 to 12 newly elected councilors resigned their offices after they were abducted by insurgents. All of them had been elected from the chief minister’s own constituency in Makran division which is also his home town.

Dr Malik In awaran (1)

About the improving law and order situation in the province, Malik said the December 7 elections for over 7,000 local bodies’ seats were held in a better security environment as compared to the May 11 general elections. “Over 6,500 councilors have been elected for the local governments,” he added.

 

Express Tribune

 
 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.