RSS

بلوچ نوجوان کیا کرے؟

08 Mar
BalochYoung(3) 
میں یہ مضمون “بلوچ نوجوان کیا کرے” اپنے بھائی صلاح الدین کھوسو کے نام کرتا ہوں۔ کھوسو میرا یار ہے، لڑائی مارکٹائی رہتی ہے ہماری مگر ہم نے اپنا تعلق اس سے اوپر رکھ چھوڑا، ہمیشہ کےلیے۔ اس نے اور اسکے گھر والوں نے ریاست کا احمقانہ جبر برداشت کیا ہے اور اسی پراسس میں اسکے والدین اگلے جہان سدھار گئے، مگر دلیر اور بڑے دل کا آدمی ،کھوسو، زندگی سے لڑتا لڑتا آگے بڑھ رہا ہے اور یہی، میرے نزدیک  اسکی سب سے بڑی دلیری ہے۔ بس کبھی کبھی “مرچیلا” ہو جاتا ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس کاوش کا انتساب اسی سے ہی بنتا تھا۔
 
تیرے لیے میرے یار، کھوسو، تیرے لیے۔
 
کہنا یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست نے شدید حماقتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاستی حماقتوں کا سلسلہ ابھی کچھ کم پڑا ہے، جانتاہوں کہ بلوچ دوست اس سے اتفاق نہ کریں گے، مگر یارو، جو ہے، وہ ہے!
 
کہنا یہ بھی ہے کہ بلوچ قوم نے، بالخصوص نوجوانوں نے، بھی کم از کم 2010 کے بعد سے ان ریاستی حماقتوں کا جواب ، ایسا لگتا ہے کہ، جوابی حماقتوں سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے۔بلوچ قوم کی بات تو کرنا شاید درست نہ ہو کہ یہ کہنا بھی مکمل غلط ہوگا کہ سارے کے سارے بلوچ النسل لوگ پاکستان مخالف ہیں، مگر یہ بہرحال درست ہے کہ بلوچ قوم میں، بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں کی نسبت، مرکز گریزیت کچھ زیادہ ہے۔
 
بلوچستان کی صورتحال کو پاکستان، بالخصوص پنجاب میں بیٹھے لوگ بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، میں پالیسی میکرز کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک عام پائے جانے والے تاثر کا ذکر کر رہا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بلوچ نوجوان بھی اپنی صورتحال کو بھی بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، آزادی، انقلاب، جدوجہد اور بلوچستان میں جاری تشدد کے حوالے سے۔پنجاب کا عمومی سنٹیمینٹ بھی غلط ہے، اور بلوچ نوجوان کا جذباتی رجحان بھی درست نہیں۔ پاکستانی ریاست چونکہ ایک قومی نیریٹو بنانے میں کامیاب ابھی تک نہیں ہوئی تو اپنے آپ کو لبرل کہلوانے کے شوقین حضرات بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور اسکے ساتھ ساتھ، “سواد” اس چیز کا بھی ہے اپنے کلاسیکی دیوبندی یار بھی اسی خیال کے مالک ملتے ہیں۔ عجب کہ  ان دونوں طبقات کو اگر جوڑتی بھی ہے تو کیا چیز جوڑتی ہے، واہ!
 
بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔
 
دونوں  کے حالات میں کوئی مماثلت نہیں۔ آبادی کا تناسب، زمینی فاصلہ، شورش/بغاوت کا پھیلاؤ، مکتی باہنی کا  1971 کی جنگ سے کہیں پہلے جنگ کے لیے تیار ہونا  (جی، انکے کلکتہ میں مہاجر/ٹریننگ کیمپس تھے)، بھارت کی کھلم کھلا سپورٹ اور بعد میں جارحیت، بین الاقوامی حالات، شورش کا ایک عوامی رجحان،  پاکستانی فوجی آپریشن کی بے سمتی اور اربن وارفئیر کو طاقت سے حل کرنے کی کوشش جبکہ ایسے حالات میں طاقت و سیاست دونوں چلنے چاہیئں تھے، بھٹو اور یحییٰ کا خودغرضانہ اور احمقانہ کردار کہ بھٹو نے ٹانگین توڑنے کی بات کی، اور یحییٰ صاحب تو شاید اس وقت بھی اپنی وہسکی پی رہے تھے، اور مغربی پاکستانی عوام کی ایک ذہنی نا پختگی کہ جسکو الطاف حسن قریشی صاحب نے “محبت کا زمزمہ” اور سید اطہر شاہ صاحب مرحوم صاحب نے “ادھر ہم ادھر تم” کی صحافتی طور پر بددیانتانہ سرخیوں  سے مزید بڑھایا۔ قریشی صاحب زندہ ہیں، اور اطہر شاہ صاحب بعد میں اس سرخی پر قوم سےشرمندہ بھی ہوئے، مگر بہت دیر بعد۔
 
ابھی اوپر والے حالات کہ جن کی تخلیاتی بنیاد پر اپنے لبرل اور دیوبندی یار بلوچستان میں مشرقی پاکستان تلاش کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایک کرکے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں کہ بلوچستان کیوں مشرقی پاکستان نہیں۔
 
بلوچستان میں ایسے حالات اس لیول کے نہیں ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ متصل صوبہ ہے اور بہت معذرت کہ بلوچستان میں خود بلوچ النسل لوگ ایک سادہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ بلوچ اور براہوی بہت سے نسلی اور لسانی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر انکی سیاست میں فرق ہے۔ بلوچ النسل قریبا 38-40 فیصد ہیں جبکہ براہوی النسل قریبا18-20 فیصدی ہیں۔ پشتون بلوچستان کا قریبا 30-32 فیصدی بناتے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ پنجابی، سندھی، سیرائیکی النسل ہیں۔ 2012 میں برطانوی ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق، 63 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے “آزادی” کی مخالفت کی تھی اور پشتون علاقوں میں آزادی مخالف جذبات تقریبا 88 فیصد تھے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ 73 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے بلوچستان کے وسائل اور مسائل پر صوبائی لیڈران اور حکومت کے اختیارات مضبوط ہونے کی حمایت کی اور 53 فیصد پشتون بھی اس معاملہ پر اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ تھے۔ اور اگر آپ مجھ سے بحیثیت ایک پنجابی پوچھیں تو، جناب، شاید خود بلوچوں اور پشتونوں سے بھی زیادہ پنجابی بلوچستان کے عوام کا اپنے صوبائی معاملات پر اپنے اختیار کے ہونے کی مکمل حمایت کریں گے۔
 
 بلوچستان کی تمام آبادی، پاکستانی آبادی کا دس فیصد سے بھی کم ہے، قریبا ایک کروڑ کے لگ بھگ، جبکہ پاکستان کی آبادی اس وقت 19 کروڑ کے قریب ہے، اور اس ایک کروڑ میں بلوچ النسل لوگ 40 لاکھ کے قریب ہیں، اور اس 40 لاکھ میں سے کوئی 30 لاکھ آزادی کو رد کرتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں، جیسا کہ مشرقی پاکستان تھا اور درمیان میں ہزار میل سے زیادہ پر پھیلا ہوا “پڑوسی ملک” بھارت بھی موجود نہیں۔ بلوچستان کے مسلح لوگ، کہ جنہیں میں پہلے سرمچار سمجھتا تھا، اور اب 2010 کے بعد سےہچمچار کہتا ہوں کہ انکی تحریک میں اب جدوجہد سے زیادہ بے سمتا تشدد آ چکا ہے جسکا شکار پنجابی تو تھے ہی، اب خود بلوچ، پشتون اور براہوی بھی ہور ہے ہیں۔ بلوچ ہچمچاروں کو افغانستان سے سپورٹ ملتی ہے، اور یہ بات درست ہے، وگرنہ براہمداغ محترم افغانستان سے افغانی پاسپورٹ پر دہلی، اور پھر جینوا نہ جاتے، اور بالاچ مری بھی خاص حالات میں نہ مارے جاتے، اور افغانستان، میرے یارو، بھارت نہیں کہ جو پاکستان پر چڑھ دوڑے، تین مرتبہ تو کوشش کی جون 2012 سے، مگر پٹائی ہی کروا کے واپس بھاگے۔ اور اگر افغانستان سے سپورٹ نہیں ملتی تو میں پھر اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ سارا اسلحہ، کمیونیکیشن کے آلات، پیسہ، نقشات وہ دیگر اشیاء بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص طور پر متعین کردہ “بلوچ فرشتے” ہی ان ہچمچاروں کے گھروں کی چھتوں پر رات کو آسمانوں سے آکر رکھ جاتے ہیں۔
 
موجودہ جدید ریاستوں کی ساخت اب ایسی ہو چکی کہ شورش پیدا کرکے انکو چاکلیٹ کیک کی طرح سے کاٹنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور پاکستان جیسی بھی ہے، ایک منظم ریاست ہے اور اسکے معاملات میں، جو اسکو توڑنے کے درپے ہوں، خطے کی کوئی بھی ریاست اب کھلم کھلا حمایت نہ کرے گی۔ بین الاقوامی حالات، کہ جن میں ہربیار مری، فیض بلوچ، براہمداغ و دیگران، جتنا مرضی ہے شور مچا لیں، ایک بین الاقوامی فوج کی پیراشوٹنگ کا کوئی امکان نہیں اور خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب شورش کا رجحان عوامی نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ بلوچوں کے باہمی اختلافات ،کہ جس میں ابھی تک مرکز گریز اور مرکز کے حمایت یافتہ سرداروں کی لڑائیاں ہی ختم ہونے کو نہیں آ رہیں، ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ دوستو، یہ اختلافات تو پچھلے پانچ سو سال کی ڈاکیومینٹڈ تاریخ میں تو حل نہیں ہوئے اور شاید آئندہ کے پانچ سو سال میں بھی حل نہ ہوسکیں گے۔
 
1971 کے بالکل برعکس، پاکستان، اور خصوصا پنجاب میں، عوام کی اکثریتی رائے مرکز کی پالیسیوں کی ناقد ہے اور خود لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں کئی مرتبہ ایسی گفتگو ہوئی کہ پنجابی طلباء نے سر جھکا کر اور آبدیدہ آنکھوں سے بلوچ مہمان طلباء کی گفتگو سنی اور ان سے اتفاق بھی کیا۔ میڈیا، بھلے بندر کے ہاتھ استرے کے مصداق اپنی پہنچ کا درست فائدہ نہ اٹھا رہا ہو، مگر ساتھ ساتھ ہی میں یہ نہ تو “محبت کا زمزمہ” بہا رہا ہے اور نہ ہی “ادھر ہم، اُدھر تم” کے نعرے لگا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں کے حق میں سب سے بلند آواز دو پنجابی کشمیری صحافی، حامد میر اور نصرت جاوید نے ہی بلند کی ہے، اور کیے رکھ رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی 1971 میں نہ تھا۔ ایک شعوری ادراک اور احساس ہے پاکستانی معاشرے میں بلوچستان کے حالات کے دگرگوں ہونے پر، مگر عوام کی اکثریت، بالکل بلوچ قوم کی اکثریت کی طرح ریاستی امور میں دخل نہیں رکھتی مگر یہ بات کہنا بھی مکمل درست نہ ہوگی کہ بلوچستان کے حوالے سے پاکستانی، یا پنجابی قوم “ستُوپی کر سو رہی ہے،” ایسا کچھ نہیں، وگرنہ یہ مضمون بھی نہ لکھا جا رہا ہوتا۔
 
تحقیق کہ سچ کہا جائے کہ بلوچستان میں جاری معاشرتی تشدد کا جواب ریاست نے جوابی تشدد سے دیا۔ سچ کہا جائے کہ کلاسیکی انداز کا کوئی فوجی آپریشن بلوچستان میں نہیں ہو رہا۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح دتھے ، چاہے ہچمچاری ہوں، یا چاہے ریاستی ہوں، ان دونوں کے ہاتھوں بے گناہوں کی بھی ایک کثیر تعداد ماری گئی۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح تحریک میں واحد نظریاتی تحریک واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کی ہے جبکہ دوسرے سارے گروہوں میں یا تو جرائم پیشہ افراد سرایت کر چکے، کچھ بلوچ گروہ اپنی طاقت کےلیے مذہبی شدت پسندوں سے بھی ہاتھ ملا چکے، اور باقی، میرے یارو، سردرار زادوں کے “ٹائم پاس” کرنے کا شغل بن چکے ہیں۔ بگٹی و مری قبائل کے  چندسردار زادے جو کہ شاید اب پاکستان کبھی واپس نہ آئیں، باہر اپنی پر تعش زندگیوں میں سے روز چند لمحات نکال کر بلوچ نوجوانوں کو ایک اندھی گلی میں دھکیلنے میں مصروف ہیں اور  میرے بلوچ یار کوئی سوال پوچھے بغیر انکے پیچھے چلنے کو تیار۔ ہنسنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے کہ بگٹی سردار زادہ ایک “ریپبلیکن پارٹی” بنا کر چلا رہا ہے، جب کہ اصلیت میں موصوف کا ریپبلک نظریات سے کروڑوں نوری سالوں کا بھی تعلق نہ بنتا ہو۔  ایک دومری سردار زادے لندن کے معتدل موسم میں بلوچستان میں آگ بھڑکانے کے شغل میں مصروف ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ سوال بھی پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جناب آپ کس سمت سے انقلابی نظر آتے ہیں۔
 
میرا وجدان نہیں، سیاسی تحقیق ہے کہ بلوچستان کی آزادی کا خواب ایک جھوٹا خواب ہے۔ ایک آوازاری کا احساس جو کہ مرکز کے حوالے سے ہے وہ بھی بلاوجہ نہیں، مگر اسکی Manifestation بھی صحتمندانہ نہیں۔ بلوچ نوجوان کو ریاست نے آگے ہی کم مواقع فراہم کیے ہیں اور موجودہ حالات میں، میرے نزدیک وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان، میرے یارو، کوئی چاکلیٹ کیک نہیں کہ جسکو افغانستان میں بیٹھے چند ایک عناصر کاٹ پھینکیں، یہ ٹوٹی پھوٹی جیسی بھی ہے ایک منظم ریاست ہے اور اس نے جب بھی ایک پولیٹیکل وِل کے ساتھ منظم طریقے سے عمل کیا، نتائج سامنے آئے۔ ڈاکٹرمالک بلوچ کی صورت میں بلوچستان کے پاس ایک بہت اعلیٰ سیاسی موقع ہے اور پاکستان کے سیاسی حالات بھی موافق ہیں کہ فیڈریشن سے سیاسی و آئینی طریقہ سے اپنی بات منوائی جا سکے۔ مجھ سے سست اور کاہل لوگ بھی بلوچ قوم کی سیاسی جدوجہد کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فیڈریشن میں بلوچوں کا حق “بیک ڈیٹ” کے ساتھ انکو شکریہ کے ساتھ لوٹایا جائے۔
پاکستان لڑکھڑاتا جمہوری سفر پر گامزن ہو چکا اور فوج بھی بہت سے حوالوں سے اس پراسس کے ساتھ ایک عقلی رشتہ جوڑنے کی کوشش میں ہے۔ بہت سے مسائل ابھی بھی باقی ہیں اور شاید اس سے دس گنا مزیدآئیں بھی، مگر میرے بلوچ دوستو، تشدد کی زبان سے کہ جہاں پیر غائب میں لائن میں کھڑا کرکے نو پنجابی مزدوروں کو گولی سے اڑا دو گے، تو آزادی نہیں، مزید خرابی تمھارے اور ہمارے حصے میں آئے گی اور یہ دونوں کا نقصان ہو گا۔ بلوچ نوجوان کے لیے، میرے نزدیک پچھلے 67 سالوں میں ایسا موقع پہلے نہ آیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو فیڈرلی مین-سٹریم کرے اور اپنے حقوق کے لیے، بلکہ نہ صرف اپنے حقوق کےلیے بلکہ پاکستان کے تمام زیردست طبقات کے حقوق کے لیے ایک سیاسی جدوجہد کی شاندار تاریخ رقم کرے۔ ماما قدیر کے پاس افغانستان سے بھیجے گئے کوئی راکٹ لانچر نہیں، مگر ایک بوڑھے پر امن آدمی نے پاکستان میں ایک ایسا موضوع زندہ رکھا ہوا ہے کہ جو بلوچ جوان تشدد کے بل بوتے پر زندہ نہ رکھ سکے۔ تشدد سب کو کھا جاتا ہے، سب کو۔ جنوبی ایشائی سیاسی وزڈم ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ جہاں معاشرتی والَو سیاست پر دباؤ ڈال کر تشدد کو عدم تشدد میں جذب کر لیں، پاکستان بھی مختلف نہیں۔
میں کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتا مگر بلوچ نوجوان اب یہ سوچے کہ کتنے سال، کتنے جوان اور کتنے خواب مزید تشدد کی بھینٹ چڑھانے ہیں جبکہ تشدد اب اسے بھی کھا رہا ہے۔ دوسرا رستہ شاید اسکی انا، ماضی کے زخموں، ریاستی حماقتوں اور ایک عام سی پاکستانی لاپرواہی کی وجہ سے مشکل نظر آتا ہو، مگر میرے بلوچ بھائیو، اصل رستہ بھی وہی ہے۔ آگے بڑھو صرف ایک قدم، آپکو دس قدم چل کر آپکی طرف آنے والے پاکستان میں اب بہت ملیں گے، بہت۔ اتنے کہ گن نہ پاؤ گے۔ ماضی میں زندہ نہ رہو کہ ماضی تمھاری طرح میرا بھی شاید زخمی ہی ہو، مگر کیا منادی کرنا، ماسوائے اسکے کہ کسی کا کہا ہوا مان لیا کہ زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے اور ماضی پیچھے کی طرف کھینچتا ہے، “فیصلہ کرلو مبشر کہ آگے بڑھنا ہے یا ماضی میں ہی گڑے رہنا ہے!” مجھے یہ الفاظ میرے گاؤں، ملکوال کے میرے ماضی کے ایک دوست طارق نے لاہور میں 1989 میں کہے تھے۔ آج میں دل سے اسکا مشکور ہوں کہ میں آگے بڑھ آیا، اور ماضی کو وہیں رہنے دیا، جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
 
بلوچ یارو، ایک بار، صرف ایک بار ایسا کر کے تو دیکھو۔ زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کوشش تو کرو یارو۔ زندگی صلہ دے گی، کھلے دل سے۔ میرا وعدہ ہے۔ تشدد کی آگ سب کو کھا جاتی ہے، اور کھا رہی ہے، اور یہ میرا خدشہ ہے۔
 
یہ مضمون میری آراء پر مبنی ہے۔ آپکا اتفاق یا اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ کوشش کیجیے کہ اگر اختلافی نوٹ لکھنا ہو تو اس میں آپکی تہذیب جھلکے۔ آگے آپکی مرضی ہے۔
 
 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: