RSS

Category Archives: Baloch Youngsters

بلوچ نوجوان کیا کرے؟

BalochYoung(3) 
میں یہ مضمون “بلوچ نوجوان کیا کرے” اپنے بھائی صلاح الدین کھوسو کے نام کرتا ہوں۔ کھوسو میرا یار ہے، لڑائی مارکٹائی رہتی ہے ہماری مگر ہم نے اپنا تعلق اس سے اوپر رکھ چھوڑا، ہمیشہ کےلیے۔ اس نے اور اسکے گھر والوں نے ریاست کا احمقانہ جبر برداشت کیا ہے اور اسی پراسس میں اسکے والدین اگلے جہان سدھار گئے، مگر دلیر اور بڑے دل کا آدمی ،کھوسو، زندگی سے لڑتا لڑتا آگے بڑھ رہا ہے اور یہی، میرے نزدیک  اسکی سب سے بڑی دلیری ہے۔ بس کبھی کبھی “مرچیلا” ہو جاتا ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس کاوش کا انتساب اسی سے ہی بنتا تھا۔
 
تیرے لیے میرے یار، کھوسو، تیرے لیے۔
 
کہنا یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست نے شدید حماقتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاستی حماقتوں کا سلسلہ ابھی کچھ کم پڑا ہے، جانتاہوں کہ بلوچ دوست اس سے اتفاق نہ کریں گے، مگر یارو، جو ہے، وہ ہے!
 
کہنا یہ بھی ہے کہ بلوچ قوم نے، بالخصوص نوجوانوں نے، بھی کم از کم 2010 کے بعد سے ان ریاستی حماقتوں کا جواب ، ایسا لگتا ہے کہ، جوابی حماقتوں سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے۔بلوچ قوم کی بات تو کرنا شاید درست نہ ہو کہ یہ کہنا بھی مکمل غلط ہوگا کہ سارے کے سارے بلوچ النسل لوگ پاکستان مخالف ہیں، مگر یہ بہرحال درست ہے کہ بلوچ قوم میں، بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں کی نسبت، مرکز گریزیت کچھ زیادہ ہے۔
 
بلوچستان کی صورتحال کو پاکستان، بالخصوص پنجاب میں بیٹھے لوگ بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، میں پالیسی میکرز کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک عام پائے جانے والے تاثر کا ذکر کر رہا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بلوچ نوجوان بھی اپنی صورتحال کو بھی بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، آزادی، انقلاب، جدوجہد اور بلوچستان میں جاری تشدد کے حوالے سے۔پنجاب کا عمومی سنٹیمینٹ بھی غلط ہے، اور بلوچ نوجوان کا جذباتی رجحان بھی درست نہیں۔ پاکستانی ریاست چونکہ ایک قومی نیریٹو بنانے میں کامیاب ابھی تک نہیں ہوئی تو اپنے آپ کو لبرل کہلوانے کے شوقین حضرات بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور اسکے ساتھ ساتھ، “سواد” اس چیز کا بھی ہے اپنے کلاسیکی دیوبندی یار بھی اسی خیال کے مالک ملتے ہیں۔ عجب کہ  ان دونوں طبقات کو اگر جوڑتی بھی ہے تو کیا چیز جوڑتی ہے، واہ!
 
بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔
 
دونوں  کے حالات میں کوئی مماثلت نہیں۔ آبادی کا تناسب، زمینی فاصلہ، شورش/بغاوت کا پھیلاؤ، مکتی باہنی کا  1971 کی جنگ سے کہیں پہلے جنگ کے لیے تیار ہونا  (جی، انکے کلکتہ میں مہاجر/ٹریننگ کیمپس تھے)، بھارت کی کھلم کھلا سپورٹ اور بعد میں جارحیت، بین الاقوامی حالات، شورش کا ایک عوامی رجحان،  پاکستانی فوجی آپریشن کی بے سمتی اور اربن وارفئیر کو طاقت سے حل کرنے کی کوشش جبکہ ایسے حالات میں طاقت و سیاست دونوں چلنے چاہیئں تھے، بھٹو اور یحییٰ کا خودغرضانہ اور احمقانہ کردار کہ بھٹو نے ٹانگین توڑنے کی بات کی، اور یحییٰ صاحب تو شاید اس وقت بھی اپنی وہسکی پی رہے تھے، اور مغربی پاکستانی عوام کی ایک ذہنی نا پختگی کہ جسکو الطاف حسن قریشی صاحب نے “محبت کا زمزمہ” اور سید اطہر شاہ صاحب مرحوم صاحب نے “ادھر ہم ادھر تم” کی صحافتی طور پر بددیانتانہ سرخیوں  سے مزید بڑھایا۔ قریشی صاحب زندہ ہیں، اور اطہر شاہ صاحب بعد میں اس سرخی پر قوم سےشرمندہ بھی ہوئے، مگر بہت دیر بعد۔
 
ابھی اوپر والے حالات کہ جن کی تخلیاتی بنیاد پر اپنے لبرل اور دیوبندی یار بلوچستان میں مشرقی پاکستان تلاش کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایک کرکے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں کہ بلوچستان کیوں مشرقی پاکستان نہیں۔
 
بلوچستان میں ایسے حالات اس لیول کے نہیں ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ متصل صوبہ ہے اور بہت معذرت کہ بلوچستان میں خود بلوچ النسل لوگ ایک سادہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ بلوچ اور براہوی بہت سے نسلی اور لسانی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر انکی سیاست میں فرق ہے۔ بلوچ النسل قریبا 38-40 فیصد ہیں جبکہ براہوی النسل قریبا18-20 فیصدی ہیں۔ پشتون بلوچستان کا قریبا 30-32 فیصدی بناتے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ پنجابی، سندھی، سیرائیکی النسل ہیں۔ 2012 میں برطانوی ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق، 63 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے “آزادی” کی مخالفت کی تھی اور پشتون علاقوں میں آزادی مخالف جذبات تقریبا 88 فیصد تھے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ 73 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے بلوچستان کے وسائل اور مسائل پر صوبائی لیڈران اور حکومت کے اختیارات مضبوط ہونے کی حمایت کی اور 53 فیصد پشتون بھی اس معاملہ پر اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ تھے۔ اور اگر آپ مجھ سے بحیثیت ایک پنجابی پوچھیں تو، جناب، شاید خود بلوچوں اور پشتونوں سے بھی زیادہ پنجابی بلوچستان کے عوام کا اپنے صوبائی معاملات پر اپنے اختیار کے ہونے کی مکمل حمایت کریں گے۔
 
 بلوچستان کی تمام آبادی، پاکستانی آبادی کا دس فیصد سے بھی کم ہے، قریبا ایک کروڑ کے لگ بھگ، جبکہ پاکستان کی آبادی اس وقت 19 کروڑ کے قریب ہے، اور اس ایک کروڑ میں بلوچ النسل لوگ 40 لاکھ کے قریب ہیں، اور اس 40 لاکھ میں سے کوئی 30 لاکھ آزادی کو رد کرتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں، جیسا کہ مشرقی پاکستان تھا اور درمیان میں ہزار میل سے زیادہ پر پھیلا ہوا “پڑوسی ملک” بھارت بھی موجود نہیں۔ بلوچستان کے مسلح لوگ، کہ جنہیں میں پہلے سرمچار سمجھتا تھا، اور اب 2010 کے بعد سےہچمچار کہتا ہوں کہ انکی تحریک میں اب جدوجہد سے زیادہ بے سمتا تشدد آ چکا ہے جسکا شکار پنجابی تو تھے ہی، اب خود بلوچ، پشتون اور براہوی بھی ہور ہے ہیں۔ بلوچ ہچمچاروں کو افغانستان سے سپورٹ ملتی ہے، اور یہ بات درست ہے، وگرنہ براہمداغ محترم افغانستان سے افغانی پاسپورٹ پر دہلی، اور پھر جینوا نہ جاتے، اور بالاچ مری بھی خاص حالات میں نہ مارے جاتے، اور افغانستان، میرے یارو، بھارت نہیں کہ جو پاکستان پر چڑھ دوڑے، تین مرتبہ تو کوشش کی جون 2012 سے، مگر پٹائی ہی کروا کے واپس بھاگے۔ اور اگر افغانستان سے سپورٹ نہیں ملتی تو میں پھر اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ سارا اسلحہ، کمیونیکیشن کے آلات، پیسہ، نقشات وہ دیگر اشیاء بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص طور پر متعین کردہ “بلوچ فرشتے” ہی ان ہچمچاروں کے گھروں کی چھتوں پر رات کو آسمانوں سے آکر رکھ جاتے ہیں۔
 
موجودہ جدید ریاستوں کی ساخت اب ایسی ہو چکی کہ شورش پیدا کرکے انکو چاکلیٹ کیک کی طرح سے کاٹنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور پاکستان جیسی بھی ہے، ایک منظم ریاست ہے اور اسکے معاملات میں، جو اسکو توڑنے کے درپے ہوں، خطے کی کوئی بھی ریاست اب کھلم کھلا حمایت نہ کرے گی۔ بین الاقوامی حالات، کہ جن میں ہربیار مری، فیض بلوچ، براہمداغ و دیگران، جتنا مرضی ہے شور مچا لیں، ایک بین الاقوامی فوج کی پیراشوٹنگ کا کوئی امکان نہیں اور خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب شورش کا رجحان عوامی نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ بلوچوں کے باہمی اختلافات ،کہ جس میں ابھی تک مرکز گریز اور مرکز کے حمایت یافتہ سرداروں کی لڑائیاں ہی ختم ہونے کو نہیں آ رہیں، ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ دوستو، یہ اختلافات تو پچھلے پانچ سو سال کی ڈاکیومینٹڈ تاریخ میں تو حل نہیں ہوئے اور شاید آئندہ کے پانچ سو سال میں بھی حل نہ ہوسکیں گے۔
 
1971 کے بالکل برعکس، پاکستان، اور خصوصا پنجاب میں، عوام کی اکثریتی رائے مرکز کی پالیسیوں کی ناقد ہے اور خود لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں کئی مرتبہ ایسی گفتگو ہوئی کہ پنجابی طلباء نے سر جھکا کر اور آبدیدہ آنکھوں سے بلوچ مہمان طلباء کی گفتگو سنی اور ان سے اتفاق بھی کیا۔ میڈیا، بھلے بندر کے ہاتھ استرے کے مصداق اپنی پہنچ کا درست فائدہ نہ اٹھا رہا ہو، مگر ساتھ ساتھ ہی میں یہ نہ تو “محبت کا زمزمہ” بہا رہا ہے اور نہ ہی “ادھر ہم، اُدھر تم” کے نعرے لگا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں کے حق میں سب سے بلند آواز دو پنجابی کشمیری صحافی، حامد میر اور نصرت جاوید نے ہی بلند کی ہے، اور کیے رکھ رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی 1971 میں نہ تھا۔ ایک شعوری ادراک اور احساس ہے پاکستانی معاشرے میں بلوچستان کے حالات کے دگرگوں ہونے پر، مگر عوام کی اکثریت، بالکل بلوچ قوم کی اکثریت کی طرح ریاستی امور میں دخل نہیں رکھتی مگر یہ بات کہنا بھی مکمل درست نہ ہوگی کہ بلوچستان کے حوالے سے پاکستانی، یا پنجابی قوم “ستُوپی کر سو رہی ہے،” ایسا کچھ نہیں، وگرنہ یہ مضمون بھی نہ لکھا جا رہا ہوتا۔
 
تحقیق کہ سچ کہا جائے کہ بلوچستان میں جاری معاشرتی تشدد کا جواب ریاست نے جوابی تشدد سے دیا۔ سچ کہا جائے کہ کلاسیکی انداز کا کوئی فوجی آپریشن بلوچستان میں نہیں ہو رہا۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح دتھے ، چاہے ہچمچاری ہوں، یا چاہے ریاستی ہوں، ان دونوں کے ہاتھوں بے گناہوں کی بھی ایک کثیر تعداد ماری گئی۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح تحریک میں واحد نظریاتی تحریک واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کی ہے جبکہ دوسرے سارے گروہوں میں یا تو جرائم پیشہ افراد سرایت کر چکے، کچھ بلوچ گروہ اپنی طاقت کےلیے مذہبی شدت پسندوں سے بھی ہاتھ ملا چکے، اور باقی، میرے یارو، سردرار زادوں کے “ٹائم پاس” کرنے کا شغل بن چکے ہیں۔ بگٹی و مری قبائل کے  چندسردار زادے جو کہ شاید اب پاکستان کبھی واپس نہ آئیں، باہر اپنی پر تعش زندگیوں میں سے روز چند لمحات نکال کر بلوچ نوجوانوں کو ایک اندھی گلی میں دھکیلنے میں مصروف ہیں اور  میرے بلوچ یار کوئی سوال پوچھے بغیر انکے پیچھے چلنے کو تیار۔ ہنسنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے کہ بگٹی سردار زادہ ایک “ریپبلیکن پارٹی” بنا کر چلا رہا ہے، جب کہ اصلیت میں موصوف کا ریپبلک نظریات سے کروڑوں نوری سالوں کا بھی تعلق نہ بنتا ہو۔  ایک دومری سردار زادے لندن کے معتدل موسم میں بلوچستان میں آگ بھڑکانے کے شغل میں مصروف ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ سوال بھی پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جناب آپ کس سمت سے انقلابی نظر آتے ہیں۔
 
میرا وجدان نہیں، سیاسی تحقیق ہے کہ بلوچستان کی آزادی کا خواب ایک جھوٹا خواب ہے۔ ایک آوازاری کا احساس جو کہ مرکز کے حوالے سے ہے وہ بھی بلاوجہ نہیں، مگر اسکی Manifestation بھی صحتمندانہ نہیں۔ بلوچ نوجوان کو ریاست نے آگے ہی کم مواقع فراہم کیے ہیں اور موجودہ حالات میں، میرے نزدیک وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان، میرے یارو، کوئی چاکلیٹ کیک نہیں کہ جسکو افغانستان میں بیٹھے چند ایک عناصر کاٹ پھینکیں، یہ ٹوٹی پھوٹی جیسی بھی ہے ایک منظم ریاست ہے اور اس نے جب بھی ایک پولیٹیکل وِل کے ساتھ منظم طریقے سے عمل کیا، نتائج سامنے آئے۔ ڈاکٹرمالک بلوچ کی صورت میں بلوچستان کے پاس ایک بہت اعلیٰ سیاسی موقع ہے اور پاکستان کے سیاسی حالات بھی موافق ہیں کہ فیڈریشن سے سیاسی و آئینی طریقہ سے اپنی بات منوائی جا سکے۔ مجھ سے سست اور کاہل لوگ بھی بلوچ قوم کی سیاسی جدوجہد کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فیڈریشن میں بلوچوں کا حق “بیک ڈیٹ” کے ساتھ انکو شکریہ کے ساتھ لوٹایا جائے۔
پاکستان لڑکھڑاتا جمہوری سفر پر گامزن ہو چکا اور فوج بھی بہت سے حوالوں سے اس پراسس کے ساتھ ایک عقلی رشتہ جوڑنے کی کوشش میں ہے۔ بہت سے مسائل ابھی بھی باقی ہیں اور شاید اس سے دس گنا مزیدآئیں بھی، مگر میرے بلوچ دوستو، تشدد کی زبان سے کہ جہاں پیر غائب میں لائن میں کھڑا کرکے نو پنجابی مزدوروں کو گولی سے اڑا دو گے، تو آزادی نہیں، مزید خرابی تمھارے اور ہمارے حصے میں آئے گی اور یہ دونوں کا نقصان ہو گا۔ بلوچ نوجوان کے لیے، میرے نزدیک پچھلے 67 سالوں میں ایسا موقع پہلے نہ آیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو فیڈرلی مین-سٹریم کرے اور اپنے حقوق کے لیے، بلکہ نہ صرف اپنے حقوق کےلیے بلکہ پاکستان کے تمام زیردست طبقات کے حقوق کے لیے ایک سیاسی جدوجہد کی شاندار تاریخ رقم کرے۔ ماما قدیر کے پاس افغانستان سے بھیجے گئے کوئی راکٹ لانچر نہیں، مگر ایک بوڑھے پر امن آدمی نے پاکستان میں ایک ایسا موضوع زندہ رکھا ہوا ہے کہ جو بلوچ جوان تشدد کے بل بوتے پر زندہ نہ رکھ سکے۔ تشدد سب کو کھا جاتا ہے، سب کو۔ جنوبی ایشائی سیاسی وزڈم ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ جہاں معاشرتی والَو سیاست پر دباؤ ڈال کر تشدد کو عدم تشدد میں جذب کر لیں، پاکستان بھی مختلف نہیں۔
میں کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتا مگر بلوچ نوجوان اب یہ سوچے کہ کتنے سال، کتنے جوان اور کتنے خواب مزید تشدد کی بھینٹ چڑھانے ہیں جبکہ تشدد اب اسے بھی کھا رہا ہے۔ دوسرا رستہ شاید اسکی انا، ماضی کے زخموں، ریاستی حماقتوں اور ایک عام سی پاکستانی لاپرواہی کی وجہ سے مشکل نظر آتا ہو، مگر میرے بلوچ بھائیو، اصل رستہ بھی وہی ہے۔ آگے بڑھو صرف ایک قدم، آپکو دس قدم چل کر آپکی طرف آنے والے پاکستان میں اب بہت ملیں گے، بہت۔ اتنے کہ گن نہ پاؤ گے۔ ماضی میں زندہ نہ رہو کہ ماضی تمھاری طرح میرا بھی شاید زخمی ہی ہو، مگر کیا منادی کرنا، ماسوائے اسکے کہ کسی کا کہا ہوا مان لیا کہ زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے اور ماضی پیچھے کی طرف کھینچتا ہے، “فیصلہ کرلو مبشر کہ آگے بڑھنا ہے یا ماضی میں ہی گڑے رہنا ہے!” مجھے یہ الفاظ میرے گاؤں، ملکوال کے میرے ماضی کے ایک دوست طارق نے لاہور میں 1989 میں کہے تھے۔ آج میں دل سے اسکا مشکور ہوں کہ میں آگے بڑھ آیا، اور ماضی کو وہیں رہنے دیا، جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
 
بلوچ یارو، ایک بار، صرف ایک بار ایسا کر کے تو دیکھو۔ زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کوشش تو کرو یارو۔ زندگی صلہ دے گی، کھلے دل سے۔ میرا وعدہ ہے۔ تشدد کی آگ سب کو کھا جاتی ہے، اور کھا رہی ہے، اور یہ میرا خدشہ ہے۔
 
یہ مضمون میری آراء پر مبنی ہے۔ آپکا اتفاق یا اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ کوشش کیجیے کہ اگر اختلافی نوٹ لکھنا ہو تو اس میں آپکی تہذیب جھلکے۔ آگے آپکی مرضی ہے۔
 
Advertisements
 

Pleasant Changes In Balochistan

 

Pro Pakistani Tweets From BLA Cyber Team:

BLA Cyber Team Appreciat Pakistan and did Pro-Pakistani Tweets (2)

BLA Cyber Team Appreciat Pakistan and did Pro-Pakistani Tweets (1)

 

Pakistan Army Cheif In Sui:

Chief of Army Staff Gen Ashfaq Parvez Kayani inaugurated Sui Miltary College In 2011 With CM Balochistan that time Aslam Raisani

Chief of Army Staff Gen Ashfaq Parvez Kayani inaugurated Sui Miltary College In 2011 With CM Balochistan that time Aslam Raisani

Chief of Army Staff Gen Ashfaq Parvez Kayani in Sui Miltary College In 2013 With CM Balochistan Dr Malik

Chief of Army Staff Gen Ashfaq Parvez Kayani in Sui Miltary College In 2013 With CM Balochistan Dr Malik

 

Anti BLA Slogans in Balochistan:

Anti BLA Salogans In Balochistan 2

 

Anti BLA Salogans In Balochistan 1

 

Baloch Love For Pakistan Army :

#Pakistan army Jawan with Baloch Youngsters #Balochistan

Old Baloch Woman Love for Pakistan Army Solider

 

Media show this or Not, But Young Baloch is Watching All This:

Young Baloch With Pakistani Fags

 

Bomber boys of Balochistan: Kids as young as 11 held over insurgent attacks in Pakistan

14-year-old Sabir, far right, and other boys are paraded in front of the media by police in the Pakistani city of Quetta after they were arrested on suspicion of taking part in attempted bomb attacks

14-year-old-sabir-far-right-and-other-boys-are-paraded-in-front-of-the-media-by-police-in-the-pakistani-city-of-quetta-after-they-were-arrested-on-suspicion-of-taking-part-in-attempted

By Mujeeb Ahmed and Amna Nawaz, NBC News

QUETTA, Pakistan – In Pakistan’s conflict-torn Balochistan, boys as young as 11 are being paid $20 to carry out bomb attacks by a militant separatist group that’s been fighting the government for years.

Pakistani authorities discovered a network of child bombers after a 14-year-old was caught with a bomb in a shopping bag in March in Balochistan, a resource-rich province bordering Iran that has been wracked by violence for decades.

The boy, Sabir, who was only identified by his first name, was apologetic and asked for forgiveness after he was caught.

But others are defiant. Saddam Lehri, also 14, lost a leg after a bomb he planted in the grounds of a small, private hospital in the city of Quetta went off earlier than he expected. The blast last month injured another 17 people.

“I know very well I was planting a bomb and it’s dangerous, but it is necessary for an independent Baloch motherland,” he said. “We are in a war. I have no regret that I lost my leg. My life is for a free country.”

Sabir and the others, aged between 11 and 16, were found in a farmhouse outside Quetta.

All admitted to planting bombs and said they were paid 2,000 rupees (roughly $20) for each “successful” bomb attack. Police said they have been able to link 14 attacks in the past four months to this group of boys.

The adults in the house – believed to be the boys’ handlers – escaped after a firefight.

“Baloch militant groups are now using children to explode their bombs,” Quetta City Police Chief Mir Zubair Mehmood said. “All these children are from poor families, and all have confessed that they were involved in planting bombs around Quetta.”

Pakistani police — not known for displaying particular sensitivity when it comes to cases involving children — paraded the gang of boys before the media after the raids.

They stood quietly while photographers jockeyed for position and camera flashes popped. The younger boys took in the scene, wide-eyed. Some of the older boys crossed their arms and waited for the spectacle to finish.

Sabir spoke haltingly, hands clasped in his lap, head lowered, refusing to make eye contact.

Saddam Lehri, 14, lost a leg after a bomb he planted in the grounds of a small, private hospital in the city of Quetta went off earlier than he expected. The blast last month injured another 17 peopleSaddam Lehri, 14, lost a leg after a bomb he planted in the grounds of a small, private hospital in the city of Quetta went off earlier than he expected. The blast last month injured another 17 people.

He asked for forgiveness, acknowledging his actions had hurt and killed people.

He said planting bombs was not about the money. His father, a police officer posted for long stretches away from his family, earns a good living. Sabir is the oldest of six children, three boys and three girls. All attend school.

He said he was also not motivated by the hashish — supplied by their handlers — that he said many of the boys used regularly.

Instead, he made repeated references to the Baloch motherland, the struggle for independence, and “the war” against Pakistani government forces.

My close relative Naseer Bungalzai is fighting against the Pakistan Army and lives in the Qabo mountains. He inspired me to fight for the Baloch motherland,” Sabir said. “He also helped me to meet a militant commander, Shoaib, who lives in Kili Geo, Quetta.”

Sabir said Shoaib had trained him how to set timers on the bombs, carry them in nondescript shopping bags, and plant them as close as possible to potential targets.

“When I was fully trained, Shoaib gave me a bomb, and told me to leave it in Wahdat Colony near a police post. I left it near a house wall,” Sabir said. “The time was set for 9:15. I left the site at 9:05 and after 10 minutes, the blast went off.”

According to news reports from the time, four people were injured in that attack in Quetta on Dec. 8.

Authorities say Shoaib, believed to be in his mid-30s, is affiliated with the United Baloch Army, one of several separatist groups operating in the region.

Another similar group – the Balochistan Liberation Army – earlier this month claimed responsibility for a devastating grenade-gun-and-IED attack on one of the historic residences of Pakistan’s late founder, Muhammad Ali Jinnah. The Pakistan flag atop the building was burned in the attack, and replaced with the BLA’s.

Experts say young boys growing up in Balochistan – long underfunded and underdeveloped by Pakistan’s federal government — are increasingly vulnerable to recruitment by separatist organizations.

Security forces have been accused in recent years of carrying out a string of kidnappings and brutal murders of local men, the vast majority of which are not investigated.

Jalal Faiz, originally from Balochistan, recently conducted field research across the province as part of his doctorate at the University of Westminster in England.

He said students in Balochistan “think their culture, their language, their history” is overlooked in high school.

“They grow up believing the state does not care about them, that the state wants to control them, that the state does not consider them as equals,” Faiz said. “Even if they aren’t actively doing something to support it, they all support the Baloch independence movement.”

Daanish Mustafa, an associate professor at Kings College London who spent years conducting research in rural Balochistan, which is home to 70 percent of the province’s population, said part of the problem was a breakdown of the traditional Baloch way of life and the failure of the state to fill the void.

He said communities were falling apart, leading to a militant form of juvenile delinquency.

“The separatist movement has been there for the longest time,” Mustafa said.

“There used to be a set of moderating influences on children,” he added. “You remove those, the social constraints – not just parents and family but a society where everyone was dependent on each other – you break it apart and now you have these sort of autonomous family units. And then you expect these young men to not get up to trouble?”

NBCNews

 

Why They Ask For Freedom By Tahira Baloch


PTV Bolan
Tahira Baloch is a Journalist, affiliated to Pakistan’s first Balochi Channel, the Bolan Tv Network. You can contact her dircetly at her Facebook Group.

Why They Ask For Freedom By Tahira Baloch

 

 

Young BaLoch Soldiers

Baloch Youth 2

I stepped towards the stadium, hands in pockets, wearing uniform and field cap. I looked at the banner. Big khuzdar stadium board and a football competition banner was there. The slight sight of football event was vivid . I looked at Major Changaiz who had some how agreed to my proposal, but still carried sign on the face. We both entered. One of kalat team player dodged n kicked the football. The kick entirely missed the target. It never got attention of people as most of the spectators looked at two Army guys standing in uniform, few feet away from side lines watching the match with full attention. It was for few moments and eventually people focused attention on match but still we cud feel eyes on us. Players were good and game was on. The sky was plain n evening was near. Havildar amjad approached major changaiz and asked for permission “Well yes tell them around , distribute pamphlets”. He saluted and in few moments he had a small circle of young men around. The moment words reached people. Few of anxious one started approaching us too . It was a friendly smiling talk . I told smiling group of young men, we are here to disseminate info about the BALOCH recruitment. Its out of routine , we have been allotted seats for recruitments of sepoys and we are trying to desiminate info. They asked Questions, which were answered. It was all lighter talk when I realized the circle is growing more and more and may turn disturbing to players and spectators “ well we are out , when you are finished from match come out , get a chit and know all the procedure” .

Old Baloch lady
It was moments after ,when that empty road outside khuzdar stadium was crowded with people, smiling, anxious, few passer buys , children , aged ones . I always had a different circle. It was not my duty I had just entered the tour on my own to be part of some thing good and so my group always had chit chats , Questions , interactions . From madrassah guys on cycles , to national footballers , to small child carrying english newspaper to anxious young men interacting. My circle grew more. Few asked for taking pics together, few asked for numbers, few were given advices, few told about recruitment process. It was friendly tone that were all over. Khuzdar team lost that day to Kalat but not us in our mission. We had disseminated to a lot of people.
While going back I recalled the few days I had been out on this thing. Going to each school. Meeting students , interacting with teachers, going far off in the villages, sitting across the streams in cave things, interacting with old fellows. Standing with children at cricket pitches with all kinds of their talks.I learned many things, made many friends, helped few in their things, saw and came to know of real Khuzdar and surroundings.

Baloch Youth
The drums beating and loud word of command made me come out of that thinking, those old memories just rushed back to corners pleasantly. I looked at captain Faisal commanding the parade and behind him stood those 200 BALOCH recruits whose passing out was being conducted. The ones I had been part of, few months back.I smiled looked at the surroundings arena, all filled with guests, flags, and then force in the middle.

Khuzdar was like ever with clear skies and gliding winds. In just few months these civilians, village and city guys, had been moulded to a fine soldiery things and its customs. They stood firm and resolute. Their actions on word of command were terrific and in total resonance with each other. I felt proud. When the Pakistani flag came to front and when each recruit uttered oath on top of voice. When words of faith, country, service and loyalty echoed. I felt sparks inside me. I just looked at my side and there I could see few officers repeating it silently in hearts with lips moving. It was an emotional burst. I looked at waving FLAG n got too emotional,the march past took place. Their zeal was evident, their tone spoke it, their march depicted it. The slogan of Allah o akbar had a total manifestation.
Later function was not a concern to me. Speeches amidst had happened which I didn’t care that much yet I just listened .The real thing had happened.

On going out from the seating place, I looked at the young BALOCH soldiers , smiling , proud n confident , standing in stiffed uniform with their family members aside. Few among them that I had interaction looked at me ,smiled. We had celebrations together few nights ago. I smiled back and returned the salute.

200 men that day earned a future, out of their common life they chose to make a destiny. Their worthy decision  Army vs Sardar to hold this green flag and serve nation gave them the realization of their identity and opportunity to prove their selves. Such like men are still there, few as a nomad, few in universities, colleges,schools, out in market, out spending a common man lives.The area holds opportunities, people have talent, life, big hearts, smiling notes , energies, aspirations yet talents is not being translated out . Money is going to looters, few separatist orgs coercing their thoughts with tools of fear, terror, tricks and propaganda. I wish these few understand that coercing their thoughts such is unethical, their actions not approvable by religion and damaging to young men in particular, to common man and to society

I wish one day wen I move out , I see every common man educated , enlightened and prosperous . I wish I see in their eyes the same sparks , same smiles , same determination to be a good part of society as I saw in the BALOCH soldiers that day. I hope to see a far better environment and radiant tomorrow .i hope to see it one day and to tell you , those young BALOCH SOLDIERS are a good part of that prosperous , gleaming tomorrow and shall ever b inshallah

Casual Words

Also Read,Two Young Baloch: Jahangir Marri And Safar Khan Qambrani

 

Jahangir Marri And Safar Khan Qambrani

Lieutenant Jahangir Marri Shaheed

Lieutenant Jahangir Marri Shaheed.

Lieutenant Jahangir Marri, the brave son of Balochistan was born in 1984 in Kohlu, a remote area of Balochistan.

His father, Fateh Khan is an assistant at commissioners office, Kohlu.
Lt Jahangir acquired his basic education from Taleem Foundation Grammar School, Kohlu, was an outstanding student and subsequently, he shifted to Quetta and joined Tameer-e-Nau, College Quetta and obtained 1st Division in his FA examination.

The Shaheed lieutenant Jahangir Marri belonged to Gazini sub-branch of Marri tribe and had joined Pakistan Army in 2006 and was commissioned in 34 Baloch in 2008.
It was on the 10th of July, when Lt Jahangir Marri volunteered himself for a search patrol and while leading the patrol from the front, he encountered miscreants at Chenar in Charmang Valley of Bajaur Agency. After an intense battle, in which he killed ten miscreants but he also unfortunately received a bullet in his chest and embraced Shahadat.

Rest in peace, young Jahangir Marri, we are proud of you and our sympathies are with your family.

****

Captain Safar Khan Qambrani Shaheed

Captain Safar Khan Qambrani Shaheed

Captain Safar Qambrani passed FSC from Tameer-e-Nau College Quetta and was commissioned in the army in 2001. He joined 38 Baloch regiment. Captain Safar was an intrepid officer who laid his life for the country while fighting the terrorists in Orakzai agency on Jun 08, 2010.

His brother is also serving in the Pak Army, Captain Zarif Khan.

Captain Safar Khan, who belongs to Qambrani tribe of Balochistan, was a very brave army officer. He embraced martyrdom after killing several terrorists fighting against Islam and anti-state elements in Orakzai Agency on June 8,2010. He was laid to rest in Quetta.

 

Sanam Baloch Interview

Sanam Baloch 1

Sanam Baloch