RSS

Category Archives: Baloch

بابائے جمہوریت میر غوث بخش بزنجو

By Mukhdom Ayub Qureshi

Ghaus_Bakhsh_Bizenjo

کامریڈ لینن نے کہا تھا ہر دور کا ایک اسپارٹیکس ہوتا ہے، فرق صرف حالات و واقعات اور ماحول کا ہوتا ہے ورنہ کوئی بھی تحریک اسپارٹیکس سے خالی نہیں ہوتی۔ گلے سڑے اور ظالمانہ نظام کے خلاف ہر جدوجہد کی قیادت کرنے والا اپنے اپنے دور کا اسپارٹیکس ہوتا ہے۔

فرسودہ نظام کے خلاف صدائے حق بلند کرنے والوں میں اسپارٹیکس کا حوصلہ، ہمت اور اپنے لوگوں کے ساتھ کمٹمنٹ ظالمانہ نظام کے خلاف برپا ہونے والی تحریکوں میں روح پھونک دیتا ہے، ایسی ہی ایک مضبوط اور عوام دوست شخصیت کا نام غوث بخش بزنجو ہے۔ میر غوث بخش بزنجو ایک نہیں کئی عوامی تحریکوں کے اسپارٹیکس ہیں۔

اس ملک کی سیاست میں اس عظیم اور بڑے سیاست دان کے نقش قدم پر چلنا ہر سیاسی کارکن اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہے، ان کے نظریاتی دشمن بھی ان کی بااصول اور لازوال سیاسی جدوجہد کے معترف ہیں۔ معروف سیاسی رہنما یوسف مستی خان کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں میر صاحب سے بڑا سیاستدان اور شاندار انسان نہیں دیکھا، 1917 انقلاب روس کا سال ہے اور اسی سال دسمبر کے مہینے میں میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کے گاؤں شانک میں پیدا ہوئے، یہ گاؤں ضلع آواران کے جھاؤ علاقے میں واقع ہے، میر صاحب کے والد کا نام سفر خان تھا۔

ان کا آبائی گاؤں نال، ضلع خضدار میں ہے، میر صاحب ابھی ایک برس کے تھے کہ یتیم ہوگئے، آپ کے دادا سردار فقیر محمد بزنجو 1839 میں محراب خان حکومت میں مکران کے گورنر تھے، وہ تقریباً 45 برس تک گورنر رہے۔ ایک قبائلی سماج میں کسی ایسے یتیم بچے کے لیے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتی جس کے پاس کافی جائیداد بھی ہو اور چھیننے والے بھی طاقت ور ہوں، یہ غوث بخش بزنجو کی ماں ہی جانتی ہے کہ کن دشواریوں سے ایک بیوہ ماں نے طاقتور دشمنوں سے بچا کر اپنے یتیم بچے کو پالا ہوگا۔

میر صاحب کا کہنا ہے کہ والدہ نے بچپن ہی سے مجھ میں بلوچیت کے جراثیم پیدا کردیے تھے (بلوچی قصے کہانیوں کے ذریعے) وہ اسکول کے زمانے میں فٹبال کے کھلاڑی بنے اور اسی فٹبال کی وجہ سے سینڈیمن سے ہوتے ہوئے علی گڑھ جا پہنچے اور وہاں فٹبال ٹیم کے کیپٹن ہوگئے اور جب تک علی گڑھ میں رہے فٹبال کا گولڈ میڈل علی گڑھ کو ہی ملتا رہا، لیکن بابا نے کھلاڑی کب بننا تھا، انھیں تو بے زبان لوگوں کی زبان بننا تھا، ظلم کے خلاف دیوار بننا تھا۔

Bzenjo

علی گڑھ میں پرامن سیاسی ہلچل کے زمانے میں بزنجو مسلم لیگ کے بجائے کانگریس کے حامی بنے اور پھر آہستہ آہستہ ان کا رجحان بائیں بازو کی طرف ہوا۔ وہ چار سال وہاں رہے اور پھر 1938 میں میٹرک کرنے کے بعد واپس آگئے۔ نال میں شادی کی، چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے باپ بنے۔ 38 میں کراچی کی ایک سرگرم تنظیم بلوچ لیگ میں شامل ہوگئے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے قلات میں قلات نیشنل پارٹی کے سالانہ کنونشن میں شریک ہوئے اور پھر اس کے عہدیدار ہوگئے۔

1941 میں قلات نیشنل پارٹی کو آل انڈیا پیپلز کانفرنس کا ممبر بنایا جس کے صدر شیخ عبداﷲ و نائب صدر جواہر لال نہرو تھے۔ 1937 میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے، جب نیشنل پارٹی پر پابندی لگی تو اس کے خلاف احتجاج کیا، گرفتار ہوئے، جائیداد ضبط ہوئی، جب آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ رہا تو تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ مکران بدر ہوئے، جلاوطنی کے یہ احکام دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد واپس لیے گئے۔

مارچ 1948 میں سازشیں رنگ لائیں اور بابا بزنجو کو گرفتار کرکے خضدار جیل کے سپرد کردیا گیا۔ 54 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی، پھر بزنجو اور دوستوں نے مل کر استمان گل (عوام الناس کی پارٹی) بنا ڈالی۔ 54 میں ہی اس پارٹی کو پاکستان نیشنل پارٹی میں ضم کردیا گیا۔

57 میں پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) عوامی نیشنل پارٹی (NAP) بن گئی، لفظ عوامی کا اضافہ مولانا بھاشانی کے مطالبے پر ہوا، ان کی قیادت میں عوامی لیگ کا ایک بڑا دھڑا الگ ہوکر نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوا تھا، اس طرح نیپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی اور بابا بزنجو اس کے لیڈر۔ 58 میں بزنجو اپنے ساتھیوں سمیت ایک بار پھر جیل جا پہنچے قلی کیمپ کی سخت ایذا رسانی، بہیمانہ تشدد، الٹا لٹکایا جانا، نقطہ انجماد سے نیچے کی سردی میں کپڑے اتار کر فرش پر لٹانا اور اوپر ٹھنڈا پانی ڈالنا۔

اسی عوام دشمن دور میں بابا بزنجو نے 1964 میں لیاری سے الیکشن جیتا۔ 1970 کے انتخابات میں نیپ کو بلوچستان سے مکمل اور پختونخوا سے جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ پورے ملک میں واضح اکثریت شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے حاصل کی تھی لیکن کچھ گماشتہ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا گیا اور ریاست کے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان میں آپریشن شروع کر دیا، جس کی بابا بزنجو اور اس کی جماعت نے شدید مخالفت کی لیکن پھر جو ہوا وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

باقی بچ جانے والے حصے کو حکمرانوں نے نئے پاکستان کا نام دیا جوکہ ظاہر ہے کہ بے آئین تھا۔ آئین بنانے اور مختلف الخیال جماعتوں اور سیاستدانوں کو نئے آئین پر متفق کرنے میں بھی بابا نے اپنی سیاسی بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اس طرح 73 کا دستور اتفاق رائے سے منظور ہوا۔ بلوچستان اور پختونخوا میں NAP اور جمعیت علمائے اسلام کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ بابا بزنجو بلوچستان کے گورنر بنے اور عطا اﷲ مینگل وزیراعلیٰ۔ یہ حکومت اپنی تمام تر عوام دوستی اور عوامی مقبولیت کے باوجود ایک سال سے بھی کم عرصہ چلی۔

بلوچستان پر بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کرکے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ بابا بزنجو اپنے ساتھیوں سمیت پھر گرفتار ہوئے۔ 1973 سے لے کر 1978 تک جیل میں رہے جب کہ 5 جولائی 1977 کو جمہوری حکومت ختم ہو گئی۔ جیل سے رہائی کے کچھ عرصے بعد ولی خان اور بابا بزنجو کی سیاسی راہیں جدا ہوگئیں۔

غوث بخش بزنجو افغانی ثور انقلاب کے زبردست حامی تھے جب کہ ولی خان اور این ڈی پی کی قیادت اس انقلاب کی مخالف تھی، ولی خان ضیائی مارشل لا کے لیے بھی خیر سگالی کے جذبات رکھتے تھے جب کہ بزنجو اصولوں کی بنیاد پر ڈکٹیٹر شپ کے سخت مخالف تھے۔ اس طرح بابا بزنجو اور اس کے ساتھیوں نے پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنا شروع کی۔ بزنجو ضیا کی طرف سے بھٹو پر چلائے جانے والے مقدمے کے بھی خلاف تھے، وہ بھٹو کی پھانسی پر بہت غمگین ہوگئے۔

1981 میں ایم آر ڈی بن گئی لیکن بابا بزنجو کو اس میں شمولیت کی کوئی زیادہ جلدی نہیں تھی، انھوں نے ایم آر ڈی میں شمولیت کے لیے اپنے مطالبات رکھے، قوموں کا حق خود ارادیت اور مرکز کے پاس چار محکمے، باقی سب اختیارات صوبوں کے پاس۔ MRD کی قیادت نے اس فارمولے کو تسلیم کیا اس طرح PNP، ایم آر ڈی کا حصہ بنی۔ اس جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بحالی جمہوریت کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

بابا بزنجو ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور جیل گئے، رہائی کے بعد پھر جدوجہد شروع کی۔ بابا بزنجو نے اپنی زندگی کے 72 برسوں میں سے 25 سال جیل میں گزارے، جولائی 1989 کو ملک کے سیاسی حلقوں میں اس خبر کو نہایت دکھ کے ساتھ سنا گیا کہ بابا کو کینسر ہوگیا ہے اور پھر 11 اگست 1989 کو بابائے جمہوریت 20 ویں صدی کی کئی لازوال تحریکوں کا اسپارٹیکس اپنے اور کینسر کے بیچ ہونے والی جنگ ہار کر اپنے آباؤاجداد کے پاس چلا گیا۔ اب وہ اپنے گاؤں نال میں اپنی عظیم الشان لائبریری کے پیچھے (جہاں کبھی وہ اپنے باغ کے پھول پودوں کو پانی دیا کرتا تھا) سویا ہوا ہے۔

Express

 

Writ of govt in Balochistan

Balochistan

Balochistan, province having its un­i­que geographic impo­rt­ance, hardly witnessed the rest before and after formation of Pakistan. Many factors including international power players, ghastly policies and bad governance had been planting and nourishing unrest in the province.
Tribal culture has been always blamed for dysfunctional democracy. There are numerous Sardars and tribes in the province but only three names Bugti, Marri and Mengal are echoed and talked about all the time. They merely are considered as God Fathers of whole province. Even though the whole Makran division has no tribal system and people there are relevantly educated too. But, other Baloch areas are strictly ruled by Nawabs and Sardars even influence the domestic matters of lay man or their tribal men. They are absolute masters of the faith of their tribal men. The Nawabs and powerful Sardars even being in government did never bother to contribute nor allowed any development to be done in their areas.
For instance, Nawab Aslam Raisani ruled and served as Chief Minister of Balochistan, his area Sarawan and Jhalawan area of Nawab Sana Ullah Zehri president of Muslim League Nawaz have no roads, schools or infrastructure tobe seen there. It’s an open secret that if any development organization, government or non-government aims to start any project, the Sardar or Nawabasks for his share to allow the work to be get done or sometimes ask for the budget in their hands so they will run the project by themselves.
Many organizations abandoned their projects due to this reason. In Musharaf regime and especially in last 5 years of PPP government, Balochistan received the heaviest amount of money. Every MPA received millions for development and every MPA was local of Balochistan province. But the mentality of Nawab and Sardar cannot imagine considering their tribes men as equal human beings but just born to fight their tribal wars and to nourish their superiority, hence, they don’t need education, medical facilities or any other development. Many projects under the chief minister Raisani were approved, processed and completed but unfortunately only on papers while nothing on practical grounds.
This corruption fueled insurgency and paved ways for insurgents who are supported by international power players. And these last 5 years made Balochistan almost ungovernable and to whom leadership of PML-N was very well aware of.
That’s a reason National Party was given a chance. Dr. Abdul Malik Baloch the current CM of Balochistan belongs to Makran and have no tribal background. When this decision was made, everyone, well aware of the facts about Balochistan was of the view that Dr. Malik won’t be able to stand more than few months.
In fact, Sardars and Nawabs in power tried their level best to make it happen. But on other hand Dr. Malik is educated person and he was well aware of the situation he was going to face and these matters and people have to be dealt with patience and systematic strategy which will be time taking for sure. He gradually took control and refused to take pressure of any black-mailing.
Right now the largest and strongest insurgency is led by Dr. Allah Nazar who is lay man of Muhammad Hasni tribe. Large number of educated and illiterate Baloch youth is swiftly realizing that they are kept deprived by their own Nawabs and Sardars who sought and gained all the privileges for themselves but never allowed any development to the people. Fighters of Dr. Allah Nazar without hesitation say that Allah forbids as they get freedom, their first task will be killing of all Nawabs and Sardars.
In such scenario, Dr. Malik as CM of Balochistan is really a positive step by the state and there are no corruption charges on his team so far. Dr. Malik is going wise and gradual. Our problem as a national is that we seek just immediate result and don’t believe in long term systematic strategy, but, history proves that long term planning has always made some productive note-worthy outcomes.
No one can deny that the insurgents are just a group of criminals and their wrong doings like killings, extortion, blackmailing and kidnapping for ransom etc have created resentment in masses against them and in some cases tribesmen stood against them as well. As, these insurgents are supported by international powers with all means, so, the matter has to be dealt wisely.
If, these Sardars and Nawabs, who have been ruling before, are dealt with immediate action against them, they will use the tool of blackmailing and umbrella of Baloch cause that enemies are already utilizing very well against Pakistan. Insurgents or angry Baloch should be brought to the table for negotiation so they can be ceased to trap more young Baloch people.
Dr. Malik is a trusted man by local people, if Pakistan makes serious attempts of negotiation and other side which is expected to go against it will strengthen the case of Pakistan and people of Balochistan who are already furious now by the hands of insurgents will accept the elimination of insurgents.
Many non-Baloch and even Baloch teachers, doctors and other professionals are migrating from Balochistan and no one is ready to work here on the risk of his/her life.

Ghost employees, fake projects and lack of professionals are gifts of influential Sardar and Nawabs. Now, education and employment sectors being gravely important should be worked out on emergency basis.
Recruiting Baloch youth in security forces on relaxed conditions are highly appreciated in Balochistan. National media has played role to glorify these insurgents but it should do some work to create awareness on how are they damaging Baloch people?
FC (Frontier corps) are consisted of personals mostly from KPK province and this has been used widely by insurgents to make their case against state.
Even though many people consider FC as shelter against very poor law and order situation. Still, if FC is replaced with Levies and local people are inducted in Levies, this will really help the state to encounter the propaganda against Pakistan and FC and enhance the confidence of Baloch people.

Frontier Post

 

 

قائد کا بلوچستان

By Mujeeb Ahmed

Mujeeb Ahmed--Qaid Ka Pakistan

 

Tarek Fatah Fail Propaganda about PM London Visit

Tarek Fatah select one photo and complain why Prime Minster Nawaz Shareif went to london with Punjab CM only, why he did not take Sindh or Balochistan CMs with him (Tarek did not mentioned KPK, as there is no freedom movement there)

Tareq Fatah (1)

 

 

But the fact is CM Balochistan was with Prime minister delegation

Tareq Fatah (2)

 

 

For Tarek Fatah type Haters, In Pictures: Prime Minster Nawaz Sharif 7th Visit to Balochistan which shows personal interest of the “Punjabi Prime Minister” for development of Baloch people.

 

Sarmachar News: Surrender of BRA Terrorists

On 6 March 2014 nine terrorist of BRA surrendered in Dera Bugti in the presence of notables of the area and Commandant Bambore Rifles. They took advantage of the amnesty scheme of the government and laid down their weapons.

 

BRa BRA_1 BRA_2 BRA_3

 

بلوچ نوجوان کیا کرے؟

BalochYoung(3) 
میں یہ مضمون “بلوچ نوجوان کیا کرے” اپنے بھائی صلاح الدین کھوسو کے نام کرتا ہوں۔ کھوسو میرا یار ہے، لڑائی مارکٹائی رہتی ہے ہماری مگر ہم نے اپنا تعلق اس سے اوپر رکھ چھوڑا، ہمیشہ کےلیے۔ اس نے اور اسکے گھر والوں نے ریاست کا احمقانہ جبر برداشت کیا ہے اور اسی پراسس میں اسکے والدین اگلے جہان سدھار گئے، مگر دلیر اور بڑے دل کا آدمی ،کھوسو، زندگی سے لڑتا لڑتا آگے بڑھ رہا ہے اور یہی، میرے نزدیک  اسکی سب سے بڑی دلیری ہے۔ بس کبھی کبھی “مرچیلا” ہو جاتا ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس کاوش کا انتساب اسی سے ہی بنتا تھا۔
 
تیرے لیے میرے یار، کھوسو، تیرے لیے۔
 
کہنا یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست نے شدید حماقتیں کی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاستی حماقتوں کا سلسلہ ابھی کچھ کم پڑا ہے، جانتاہوں کہ بلوچ دوست اس سے اتفاق نہ کریں گے، مگر یارو، جو ہے، وہ ہے!
 
کہنا یہ بھی ہے کہ بلوچ قوم نے، بالخصوص نوجوانوں نے، بھی کم از کم 2010 کے بعد سے ان ریاستی حماقتوں کا جواب ، ایسا لگتا ہے کہ، جوابی حماقتوں سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے۔بلوچ قوم کی بات تو کرنا شاید درست نہ ہو کہ یہ کہنا بھی مکمل غلط ہوگا کہ سارے کے سارے بلوچ النسل لوگ پاکستان مخالف ہیں، مگر یہ بہرحال درست ہے کہ بلوچ قوم میں، بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں کی نسبت، مرکز گریزیت کچھ زیادہ ہے۔
 
بلوچستان کی صورتحال کو پاکستان، بالخصوص پنجاب میں بیٹھے لوگ بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، میں پالیسی میکرز کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک عام پائے جانے والے تاثر کا ذکر کر رہا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بلوچ نوجوان بھی اپنی صورتحال کو بھی بہت سمپلیفائی کرکے دیکھتےہیں، آزادی، انقلاب، جدوجہد اور بلوچستان میں جاری تشدد کے حوالے سے۔پنجاب کا عمومی سنٹیمینٹ بھی غلط ہے، اور بلوچ نوجوان کا جذباتی رجحان بھی درست نہیں۔ پاکستانی ریاست چونکہ ایک قومی نیریٹو بنانے میں کامیاب ابھی تک نہیں ہوئی تو اپنے آپ کو لبرل کہلوانے کے شوقین حضرات بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور اسکے ساتھ ساتھ، “سواد” اس چیز کا بھی ہے اپنے کلاسیکی دیوبندی یار بھی اسی خیال کے مالک ملتے ہیں۔ عجب کہ  ان دونوں طبقات کو اگر جوڑتی بھی ہے تو کیا چیز جوڑتی ہے، واہ!
 
بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ بلوچستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔
 
دونوں  کے حالات میں کوئی مماثلت نہیں۔ آبادی کا تناسب، زمینی فاصلہ، شورش/بغاوت کا پھیلاؤ، مکتی باہنی کا  1971 کی جنگ سے کہیں پہلے جنگ کے لیے تیار ہونا  (جی، انکے کلکتہ میں مہاجر/ٹریننگ کیمپس تھے)، بھارت کی کھلم کھلا سپورٹ اور بعد میں جارحیت، بین الاقوامی حالات، شورش کا ایک عوامی رجحان،  پاکستانی فوجی آپریشن کی بے سمتی اور اربن وارفئیر کو طاقت سے حل کرنے کی کوشش جبکہ ایسے حالات میں طاقت و سیاست دونوں چلنے چاہیئں تھے، بھٹو اور یحییٰ کا خودغرضانہ اور احمقانہ کردار کہ بھٹو نے ٹانگین توڑنے کی بات کی، اور یحییٰ صاحب تو شاید اس وقت بھی اپنی وہسکی پی رہے تھے، اور مغربی پاکستانی عوام کی ایک ذہنی نا پختگی کہ جسکو الطاف حسن قریشی صاحب نے “محبت کا زمزمہ” اور سید اطہر شاہ صاحب مرحوم صاحب نے “ادھر ہم ادھر تم” کی صحافتی طور پر بددیانتانہ سرخیوں  سے مزید بڑھایا۔ قریشی صاحب زندہ ہیں، اور اطہر شاہ صاحب بعد میں اس سرخی پر قوم سےشرمندہ بھی ہوئے، مگر بہت دیر بعد۔
 
ابھی اوپر والے حالات کہ جن کی تخلیاتی بنیاد پر اپنے لبرل اور دیوبندی یار بلوچستان میں مشرقی پاکستان تلاش کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایک کرکے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں کہ بلوچستان کیوں مشرقی پاکستان نہیں۔
 
بلوچستان میں ایسے حالات اس لیول کے نہیں ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کے ساتھ متصل صوبہ ہے اور بہت معذرت کہ بلوچستان میں خود بلوچ النسل لوگ ایک سادہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ بلوچ اور براہوی بہت سے نسلی اور لسانی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر انکی سیاست میں فرق ہے۔ بلوچ النسل قریبا 38-40 فیصد ہیں جبکہ براہوی النسل قریبا18-20 فیصدی ہیں۔ پشتون بلوچستان کا قریبا 30-32 فیصدی بناتے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ پنجابی، سندھی، سیرائیکی النسل ہیں۔ 2012 میں برطانوی ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق، 63 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے “آزادی” کی مخالفت کی تھی اور پشتون علاقوں میں آزادی مخالف جذبات تقریبا 88 فیصد تھے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ 73 فیصد بلوچ النسل لوگوں نے بلوچستان کے وسائل اور مسائل پر صوبائی لیڈران اور حکومت کے اختیارات مضبوط ہونے کی حمایت کی اور 53 فیصد پشتون بھی اس معاملہ پر اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ تھے۔ اور اگر آپ مجھ سے بحیثیت ایک پنجابی پوچھیں تو، جناب، شاید خود بلوچوں اور پشتونوں سے بھی زیادہ پنجابی بلوچستان کے عوام کا اپنے صوبائی معاملات پر اپنے اختیار کے ہونے کی مکمل حمایت کریں گے۔
 
 بلوچستان کی تمام آبادی، پاکستانی آبادی کا دس فیصد سے بھی کم ہے، قریبا ایک کروڑ کے لگ بھگ، جبکہ پاکستان کی آبادی اس وقت 19 کروڑ کے قریب ہے، اور اس ایک کروڑ میں بلوچ النسل لوگ 40 لاکھ کے قریب ہیں، اور اس 40 لاکھ میں سے کوئی 30 لاکھ آزادی کو رد کرتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں، جیسا کہ مشرقی پاکستان تھا اور درمیان میں ہزار میل سے زیادہ پر پھیلا ہوا “پڑوسی ملک” بھارت بھی موجود نہیں۔ بلوچستان کے مسلح لوگ، کہ جنہیں میں پہلے سرمچار سمجھتا تھا، اور اب 2010 کے بعد سےہچمچار کہتا ہوں کہ انکی تحریک میں اب جدوجہد سے زیادہ بے سمتا تشدد آ چکا ہے جسکا شکار پنجابی تو تھے ہی، اب خود بلوچ، پشتون اور براہوی بھی ہور ہے ہیں۔ بلوچ ہچمچاروں کو افغانستان سے سپورٹ ملتی ہے، اور یہ بات درست ہے، وگرنہ براہمداغ محترم افغانستان سے افغانی پاسپورٹ پر دہلی، اور پھر جینوا نہ جاتے، اور بالاچ مری بھی خاص حالات میں نہ مارے جاتے، اور افغانستان، میرے یارو، بھارت نہیں کہ جو پاکستان پر چڑھ دوڑے، تین مرتبہ تو کوشش کی جون 2012 سے، مگر پٹائی ہی کروا کے واپس بھاگے۔ اور اگر افغانستان سے سپورٹ نہیں ملتی تو میں پھر اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ سارا اسلحہ، کمیونیکیشن کے آلات، پیسہ، نقشات وہ دیگر اشیاء بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص طور پر متعین کردہ “بلوچ فرشتے” ہی ان ہچمچاروں کے گھروں کی چھتوں پر رات کو آسمانوں سے آکر رکھ جاتے ہیں۔
 
موجودہ جدید ریاستوں کی ساخت اب ایسی ہو چکی کہ شورش پیدا کرکے انکو چاکلیٹ کیک کی طرح سے کاٹنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور پاکستان جیسی بھی ہے، ایک منظم ریاست ہے اور اسکے معاملات میں، جو اسکو توڑنے کے درپے ہوں، خطے کی کوئی بھی ریاست اب کھلم کھلا حمایت نہ کرے گی۔ بین الاقوامی حالات، کہ جن میں ہربیار مری، فیض بلوچ، براہمداغ و دیگران، جتنا مرضی ہے شور مچا لیں، ایک بین الاقوامی فوج کی پیراشوٹنگ کا کوئی امکان نہیں اور خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب شورش کا رجحان عوامی نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ بلوچوں کے باہمی اختلافات ،کہ جس میں ابھی تک مرکز گریز اور مرکز کے حمایت یافتہ سرداروں کی لڑائیاں ہی ختم ہونے کو نہیں آ رہیں، ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ دوستو، یہ اختلافات تو پچھلے پانچ سو سال کی ڈاکیومینٹڈ تاریخ میں تو حل نہیں ہوئے اور شاید آئندہ کے پانچ سو سال میں بھی حل نہ ہوسکیں گے۔
 
1971 کے بالکل برعکس، پاکستان، اور خصوصا پنجاب میں، عوام کی اکثریتی رائے مرکز کی پالیسیوں کی ناقد ہے اور خود لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں کئی مرتبہ ایسی گفتگو ہوئی کہ پنجابی طلباء نے سر جھکا کر اور آبدیدہ آنکھوں سے بلوچ مہمان طلباء کی گفتگو سنی اور ان سے اتفاق بھی کیا۔ میڈیا، بھلے بندر کے ہاتھ استرے کے مصداق اپنی پہنچ کا درست فائدہ نہ اٹھا رہا ہو، مگر ساتھ ساتھ ہی میں یہ نہ تو “محبت کا زمزمہ” بہا رہا ہے اور نہ ہی “ادھر ہم، اُدھر تم” کے نعرے لگا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں کے حق میں سب سے بلند آواز دو پنجابی کشمیری صحافی، حامد میر اور نصرت جاوید نے ہی بلند کی ہے، اور کیے رکھ رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی 1971 میں نہ تھا۔ ایک شعوری ادراک اور احساس ہے پاکستانی معاشرے میں بلوچستان کے حالات کے دگرگوں ہونے پر، مگر عوام کی اکثریت، بالکل بلوچ قوم کی اکثریت کی طرح ریاستی امور میں دخل نہیں رکھتی مگر یہ بات کہنا بھی مکمل درست نہ ہوگی کہ بلوچستان کے حوالے سے پاکستانی، یا پنجابی قوم “ستُوپی کر سو رہی ہے،” ایسا کچھ نہیں، وگرنہ یہ مضمون بھی نہ لکھا جا رہا ہوتا۔
 
تحقیق کہ سچ کہا جائے کہ بلوچستان میں جاری معاشرتی تشدد کا جواب ریاست نے جوابی تشدد سے دیا۔ سچ کہا جائے کہ کلاسیکی انداز کا کوئی فوجی آپریشن بلوچستان میں نہیں ہو رہا۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح دتھے ، چاہے ہچمچاری ہوں، یا چاہے ریاستی ہوں، ان دونوں کے ہاتھوں بے گناہوں کی بھی ایک کثیر تعداد ماری گئی۔ سچ کہا جائے کہ بلوچ مسلح تحریک میں واحد نظریاتی تحریک واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کی ہے جبکہ دوسرے سارے گروہوں میں یا تو جرائم پیشہ افراد سرایت کر چکے، کچھ بلوچ گروہ اپنی طاقت کےلیے مذہبی شدت پسندوں سے بھی ہاتھ ملا چکے، اور باقی، میرے یارو، سردرار زادوں کے “ٹائم پاس” کرنے کا شغل بن چکے ہیں۔ بگٹی و مری قبائل کے  چندسردار زادے جو کہ شاید اب پاکستان کبھی واپس نہ آئیں، باہر اپنی پر تعش زندگیوں میں سے روز چند لمحات نکال کر بلوچ نوجوانوں کو ایک اندھی گلی میں دھکیلنے میں مصروف ہیں اور  میرے بلوچ یار کوئی سوال پوچھے بغیر انکے پیچھے چلنے کو تیار۔ ہنسنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے کہ بگٹی سردار زادہ ایک “ریپبلیکن پارٹی” بنا کر چلا رہا ہے، جب کہ اصلیت میں موصوف کا ریپبلک نظریات سے کروڑوں نوری سالوں کا بھی تعلق نہ بنتا ہو۔  ایک دومری سردار زادے لندن کے معتدل موسم میں بلوچستان میں آگ بھڑکانے کے شغل میں مصروف ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ سوال بھی پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جناب آپ کس سمت سے انقلابی نظر آتے ہیں۔
 
میرا وجدان نہیں، سیاسی تحقیق ہے کہ بلوچستان کی آزادی کا خواب ایک جھوٹا خواب ہے۔ ایک آوازاری کا احساس جو کہ مرکز کے حوالے سے ہے وہ بھی بلاوجہ نہیں، مگر اسکی Manifestation بھی صحتمندانہ نہیں۔ بلوچ نوجوان کو ریاست نے آگے ہی کم مواقع فراہم کیے ہیں اور موجودہ حالات میں، میرے نزدیک وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان، میرے یارو، کوئی چاکلیٹ کیک نہیں کہ جسکو افغانستان میں بیٹھے چند ایک عناصر کاٹ پھینکیں، یہ ٹوٹی پھوٹی جیسی بھی ہے ایک منظم ریاست ہے اور اس نے جب بھی ایک پولیٹیکل وِل کے ساتھ منظم طریقے سے عمل کیا، نتائج سامنے آئے۔ ڈاکٹرمالک بلوچ کی صورت میں بلوچستان کے پاس ایک بہت اعلیٰ سیاسی موقع ہے اور پاکستان کے سیاسی حالات بھی موافق ہیں کہ فیڈریشن سے سیاسی و آئینی طریقہ سے اپنی بات منوائی جا سکے۔ مجھ سے سست اور کاہل لوگ بھی بلوچ قوم کی سیاسی جدوجہد کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فیڈریشن میں بلوچوں کا حق “بیک ڈیٹ” کے ساتھ انکو شکریہ کے ساتھ لوٹایا جائے۔
پاکستان لڑکھڑاتا جمہوری سفر پر گامزن ہو چکا اور فوج بھی بہت سے حوالوں سے اس پراسس کے ساتھ ایک عقلی رشتہ جوڑنے کی کوشش میں ہے۔ بہت سے مسائل ابھی بھی باقی ہیں اور شاید اس سے دس گنا مزیدآئیں بھی، مگر میرے بلوچ دوستو، تشدد کی زبان سے کہ جہاں پیر غائب میں لائن میں کھڑا کرکے نو پنجابی مزدوروں کو گولی سے اڑا دو گے، تو آزادی نہیں، مزید خرابی تمھارے اور ہمارے حصے میں آئے گی اور یہ دونوں کا نقصان ہو گا۔ بلوچ نوجوان کے لیے، میرے نزدیک پچھلے 67 سالوں میں ایسا موقع پہلے نہ آیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو فیڈرلی مین-سٹریم کرے اور اپنے حقوق کے لیے، بلکہ نہ صرف اپنے حقوق کےلیے بلکہ پاکستان کے تمام زیردست طبقات کے حقوق کے لیے ایک سیاسی جدوجہد کی شاندار تاریخ رقم کرے۔ ماما قدیر کے پاس افغانستان سے بھیجے گئے کوئی راکٹ لانچر نہیں، مگر ایک بوڑھے پر امن آدمی نے پاکستان میں ایک ایسا موضوع زندہ رکھا ہوا ہے کہ جو بلوچ جوان تشدد کے بل بوتے پر زندہ نہ رکھ سکے۔ تشدد سب کو کھا جاتا ہے، سب کو۔ جنوبی ایشائی سیاسی وزڈم ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ جہاں معاشرتی والَو سیاست پر دباؤ ڈال کر تشدد کو عدم تشدد میں جذب کر لیں، پاکستان بھی مختلف نہیں۔
میں کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتا مگر بلوچ نوجوان اب یہ سوچے کہ کتنے سال، کتنے جوان اور کتنے خواب مزید تشدد کی بھینٹ چڑھانے ہیں جبکہ تشدد اب اسے بھی کھا رہا ہے۔ دوسرا رستہ شاید اسکی انا، ماضی کے زخموں، ریاستی حماقتوں اور ایک عام سی پاکستانی لاپرواہی کی وجہ سے مشکل نظر آتا ہو، مگر میرے بلوچ بھائیو، اصل رستہ بھی وہی ہے۔ آگے بڑھو صرف ایک قدم، آپکو دس قدم چل کر آپکی طرف آنے والے پاکستان میں اب بہت ملیں گے، بہت۔ اتنے کہ گن نہ پاؤ گے۔ ماضی میں زندہ نہ رہو کہ ماضی تمھاری طرح میرا بھی شاید زخمی ہی ہو، مگر کیا منادی کرنا، ماسوائے اسکے کہ کسی کا کہا ہوا مان لیا کہ زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے اور ماضی پیچھے کی طرف کھینچتا ہے، “فیصلہ کرلو مبشر کہ آگے بڑھنا ہے یا ماضی میں ہی گڑے رہنا ہے!” مجھے یہ الفاظ میرے گاؤں، ملکوال کے میرے ماضی کے ایک دوست طارق نے لاہور میں 1989 میں کہے تھے۔ آج میں دل سے اسکا مشکور ہوں کہ میں آگے بڑھ آیا، اور ماضی کو وہیں رہنے دیا، جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
 
بلوچ یارو، ایک بار، صرف ایک بار ایسا کر کے تو دیکھو۔ زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کوشش تو کرو یارو۔ زندگی صلہ دے گی، کھلے دل سے۔ میرا وعدہ ہے۔ تشدد کی آگ سب کو کھا جاتی ہے، اور کھا رہی ہے، اور یہ میرا خدشہ ہے۔
 
یہ مضمون میری آراء پر مبنی ہے۔ آپکا اتفاق یا اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ کوشش کیجیے کہ اگر اختلافی نوٹ لکھنا ہو تو اس میں آپکی تہذیب جھلکے۔ آگے آپکی مرضی ہے۔
 
 

Interview with CM Balochistan: Malik says he has power

Dr. Abdul Malik Baloch meeting Sardar Akhtar Jan Mengal in the presence of #Pakistan national flag

Balochistan Chief Minister Dr Abdul Malik has refuted the perception that he is a chief executive only in the name and that the actual powers are in the hands of the provincial civil bureaucracy, headed by the chief secretary.

“It is absolutely incorrect to suggest that the chief secretary is the decision-making authority in the province and I am a powerless chief minister,” CM Malik said in an annoyed tone.

“I have all powers and authority prescribed for the provincial chief executive in the Constitution and the chief secretary is discharging his duties in accordance with the rules and procedure,” Malik said in an exclusive interview with The Express Tribune on Tuesday in Islamabad.

Recently, Senator Mir Hasil Bizenjo, acting president of the Balochistan’s ruling National Party (NP), had told the media that the provincial cabinet was a toothless body without any authority.

“We have been given the right to rule the province but we are denied decisions-making powers,” Bizenjo had said.

Dr Malik – who had also served as the president of the ruling NP till his election as the provincial chief minister in June – said that his party’s leader had been quoted by the media out of context.

CM Balochistan himself supervising distribution of items in Awaran

CM Balochistan supervising distribution of items in Awaran

An official in Quetta said the provincial chief secretary – who has been sent from Punjab – was exercising all the administrative powers and there was little role of the chief minister and his cabinet members in decision-making.

Malik defended the chief secretary against the allegations and said the chief secretary and the inspector-general of police, who was also from Punjab, were serving Balochistan with exemplary commitment and remarkable integrity.

Councilors resign

The chief minister admitted that ‘some’ of the newly elected councilors of local bodies from Makran division had resigned their offices after they received life threats by Baloch militants.

“No doubt the newly elected councilors are still being abducted in Makran division by militants,” the CM said.

He claimed that 10 to 12 newly elected councilors resigned their offices after they were abducted by insurgents. All of them had been elected from the chief minister’s own constituency in Makran division which is also his home town.

Dr Malik In awaran (1)

About the improving law and order situation in the province, Malik said the December 7 elections for over 7,000 local bodies’ seats were held in a better security environment as compared to the May 11 general elections. “Over 6,500 councilors have been elected for the local governments,” he added.

 

Express Tribune